12/06/2025
آج سے دس پندرہ سال پہلے تک جب جیٹھ ہاڑ کی گرمی اپنے عروج پر ہوتی تھی اور سورج کئی کئی دن اپنی تپش سے چرند پرند انسان کو جلا رہا ہوتا تھا تب گاؤں دیہات کے بچے بارش کے حصول کے لئے ایک مخصوص انداز اپناتے تھے جسکو ہماری علاقائی زبان میں لوہی مانگنا کہا جاتا تھا۔
اس میں ہوتا کیا تھا کہ تمام بچے عین دوپہر کو جب سورج اپنی تمازت اور گرم شعاعیں برسا رہا ہوتا تھا تب یہ بچے کسی مشترکہ مقام پر اکٹھے ہو کر لوہی مانگنے کا منصوبہ بناتےءاکثر اس منصوبے کی ترغیب کوئی بڑا بزرگ ہی بچوں کو دیتا ہوتا تھا۔
سب سے پہلے کسی گھر کے باہر چولہے پر پڑا ہوا روٹیاں پکانے والا توا تلاش کیا جاتا اس توے سے تمام لڑکے بالے ایک دوسرے کے منہ پر خوب کالک ملتے ہوتے تھے اسکے بعد سارے لڑکے پرودگار سے بارش مانگنے کے لئے مخصوص نعرے لگاتے ہوئے گاؤں کے تمام گھروں کا چکر لگاتے اور لوہی مانگتے تھے۔
ان نعروں میں مشہور نعرے جو آج بھی میرے ذہن کے کونے کھدروں میں ثبت ہیں۔۔۔
کالیاں اِٹاں کالے روڑ
___ربا سوہنیا مینہ برسا دے زور و زور
کالا ڈوڈا کی منگدا ؟__
مینہ منگ دا،
مینہ منگ دا
ان نعروں کی شور سے سارا پنڈ گونج رہا ہوتا اور جس گھر بھی یہ لشکر جاتا وہاں سے لوہی کے طور پر گندم آٹا چاول یا نقدی کی صورت میں گھر والے کوئی نہ کوئی چیز ان بچوں کو دیتے تھے۔
جب سارے گھروں سے لوہی حاصل کر لی جاتی تو اس حاصل ہونے والے سرمائے کو گاؤں کی کسی دکان پر بیچ دیا جاتا اور حاصل شدہ رقم سے ٹانگری مرنڈا قلفیاں یا برفی گولے خرید کر وہ لشکری بچے کھاتے بھی تھے اور بارش کی دعا بھی کرتے تھے اور ہر بار تو نہیں لیکن کئی بار اس لوہی کے عمل کے بعد قدرت بارش کی رحمت سے نواز دیا کرتی تھی۔۔
کیونکہ لوگوں کا یقین تھا کہ بچے معصوم ہوتے ہیں تو انکی دعائیں بارگاہ خدا وند میں جلدی شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں۔
اب زمانہ جدت اختیار کر گیا ہے آجکل کے بچوں کو نہ تو ایسے ثقافتی پروگرام کی خبر ہے نہ ہی وقت ہے انکے پاس اور نہ حالات موافق ہیں۔
موسم کی شدت کو دیکھ کر لوہی مانگے بغیر ہی پروردگار سے دعا گو ہوں کہ پورے ملک پر رحم کرتے ہوئے باران رحمت کا نزول فرما میرا مالک🙏🙏🙏🙏
آمین
#سانجھاپنجاب ゚viralfbreelsfypシ゚viral
#گرمی #جیٹھ