Fz Fabrics

Fz Fabrics like my page for new dress designs

hey guys i can sew All Kinds of Pakistani cotton material, latest collection lawn, chiken, leynan, ladies fancy suits, party at a very reasonable prices

08/05/2026

عنوان: سکونِ قلب اور حل کی تلاش
اہم پیغام:
"زندگی میں جب کبھی پریشانی دستک دے، تو سمجھ لیں کہ یہ وقت تھم کر خود کو سنبھالنے اور اللہ سے رجوع کرنے کا ہے۔ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بس درست سمت میں قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔"

پریشانی کا حل: صبر، شکر اور مسلسل محنت۔
یقین رکھیں: وقت کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، بدل ضرور جاتا ہے۔
مشورہ: اگر آپ کسی ذہنی الجھن یا رکاوٹ کا شکار ہیں، تو اس کا حل مایوسی میں نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے میں ہے۔

"پریشانیاں عارضی ہیں، آپ کی ہمت مستقل! ✨
آئیے مل کر ان رکاوٹوں کو دور کریں اور ایک نئی شروعات کی طرف قدم بڑھائیں۔ اگر آپ کو رہنمائی یا مشورے کی ضرورت ہے، تو ہم حاضر ہیں۔"

📢 ضروری اطلاع: ہر سوال کے حساب کے لیے ہدیہ200 روپے ہے JazzCash ایڈوانس لازمی ہے۔ (صرف سنجیدہ لوگ رابطہ کریں)۔

04/05/2026
محلے میں ایک بیوہ عورت رہا کرتی تھی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ذہنی طور پر معذور ہو چکی تھی۔ بچے اس کا مذاق اڑاتے، اسے تنگ کر...
30/04/2026

محلے میں ایک بیوہ عورت رہا کرتی تھی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ذہنی طور پر معذور ہو چکی تھی۔ بچے اس کا مذاق اڑاتے، اسے تنگ کرتے، مگر میری والدہ ہمیں ہمیشہ اس سے روکا کرتیں اور فرماتی تھیں:
"بیٹا! کبھی بھی کسی کا مذاق مت اڑایا کرو، نہ جانے کس کے دل میں کتنا درد چھپا ہو۔"
ایک دن میری والدہ نے اس عورت کی پوری کہانی ہمیں سنائی۔
یہ عورت کبھی بالکل تندرست، باوقار اور خوش حال تھی۔ اس کا شوہر کافی پہلے وفات پا چکا تھا۔ زندگی کی ساری امیدیں، ساری محبتیں اور سارا سہارا اس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ اس کے لیے دن رات محنت کرتی، لوگوں کے گھروں میں کپڑے دھوتی، سلائیاں کرتی، کبھی خود بھوکی سو جاتی مگر بیٹے کو اچھا کھانا کھلاتی۔
وہ ہمیشہ کہا کرتی تھی:
"میرا بیٹا ہی میرا کل ہے، اسی کے سہارے بڑھاپا کٹے گا۔"
مگر بیٹا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بدلنے لگا۔ بری صحبت نے اس کے لہجے میں سختی بھر دی تھی۔ وہ ماں کی باتوں پر چڑ جاتا، کبھی آواز اونچی کرتا، کبھی غصے میں برتن پھینک دیتا۔
ایک دن سخت گرمی تھی۔ ماں صحن میں کپڑے دھو رہی تھی۔ کئی گھنٹوں کی محنت سے اس کے ہاتھ چھل چکے تھے۔ اس نے پیار سے بیٹے سے کہا:
"بیٹا! ذرا پانی کا گلاس دے دو، طبیعت بہت خراب لگ رہی ہے۔"
بیٹا موبائل میں مصروف تھا۔ اس نے غصے سے جواب دیا:
"ہر وقت حکم ہی کرتی رہتی ہو! میں تمہارا نوکر نہیں ہوں!"
ماں خاموش ہو گئی، مگر دل ٹوٹ گیا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:
"بیٹا! میں نے تمہارے لیے پوری زندگی قربان کر دی۔"
یہ سن کر وہ اور بھڑک اٹھا۔ اس نے غصے میں ماں کے ہاتھ سے کپڑوں کی ٹوکری زمین پر پھینک دی۔ گیلے کپڑے مٹی میں جا گرے۔ ماں نے کپڑوں کو سمیٹنے کی کوشش کی تو بیٹے نے بے ادبی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
بس... وہ لمحہ ماں کے دل پر قیامت بن کر گزرا۔
اس کے لب کانپے، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اور شدید دکھ، بے بسی اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اس کے منہ سے نکل گیا:
"اللہ تجھے جوانی میں موت دے!"
یہ کہتے ہی وہ خود سہم گئی۔ فوراً ہاتھ اٹھا کر رونے لگی:
"یا اللہ! میری زبان سے کیا نکل گیا... میرے بچے کو اپنی امان میں رکھنا۔"
وقت گزرتا گیا۔
ماں نے اپنے اسی بیٹے کو پڑھانے کے لیے شہر بھیج دیا۔ لوگوں سے قرض لیا، اپنے زیور بیچے، خود پرانے کپڑے پہنے مگر بیٹے کی ہر ضرورت پوری کی۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس کے لیے دعائیں کرتی۔
اللہ نے بیٹے کو کامیابی دی۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے علاقے کا کمشنر بن گیا۔ لوگ اس کی عزت کرتے، اس کی گاڑی کے آگے پیچھے پروٹوکول چلتا۔ ماں جب اسے افسر کی وردی میں دیکھتی تو خوشی سے اس کی آنکھیں بھر آتیں۔
وہ ہر کسی سے فخر سے کہتی:
"یہ میرا بیٹا ہے... میری زندگی کی کمائی۔"
اب ماں نے اس کی شادی کا ارادہ کیا۔ گھر میں خوشیوں کا سماں تھا۔ رشتے دار آ رہے تھے، کپڑے سلے جا رہے تھے، گھر سجایا جا رہا تھا۔ ماں برسوں بعد دل کھول کر مسکرائی تھی۔ وہ ہر نماز کے بعد سجدے میں جا کر اللہ کا شکر ادا کرتی۔
مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
شادی سے صرف چند دن پہلے ایک شام وہ نوجوان اپنے گھر کے برآمدے میں کھڑا فون پر بات کر رہا تھا۔ اچانک اس کے سینے میں شدید درد اٹھا۔ فون ہاتھ سے گرا... وہ لڑکھڑایا... اور زمین پر گر پڑا۔
گھر میں چیخیں گونج اٹھیں۔
لوگ دوڑے، ڈاکٹر بلایا گیا، گاڑی اسپتال کی طرف بھاگی... مگر سب ختم ہو چکا تھا۔
وہ جوان بیٹا، جس کے سہارے ماں نے پوری زندگی گزاری تھی، ماں کی آنکھوں کے سامنے بے جان پڑا تھا۔
ماں اس کے سینے سے لپٹ کر بس ایک ہی جملہ دہراتی رہی:
"بیٹا اٹھ جا... دیکھ تیری ماں آگئی ہے... میں نے غصے میں کہا تھا، دل سے نہیں کہا تھا... مجھے معاف کر دے..."
مگر اب نہ وہ آواز سننے والا تھا، نہ "امّی" کہنے والا۔
لوگ کہتے ہیں اُس دن کے بعد وہ عورت کبھی نارمل نہ ہو سکی۔
وہ اکثر گلیوں میں بیٹے کا نام لے کر روتی پھرتی۔ کبھی کسی نوجوان کو دیکھ کر رک جاتی اور کہتی:
"بیٹا! اپنی ماں کا دل مت دکھانا... ماں کی آہ بہت بھاری ہوتی ہے..."
رفتہ رفتہ اس کا ذہنی توازن ختم ہو گیا۔ بال بکھر گئے، چہرہ مرجھا گیا، اور وہی عورت جو کبھی ایک بڑے افسر کی ماں کہلاتی تھی، آج محلے میں "پاگل عورت" کے نام سے پہچانی جانے لگی۔
اور جب بھی میری والدہ اسے دیکھتیں، آہ بھر کر بس اتنا کہتیں:
"اولاد کی بے ادبی ماں کو زندہ لاش بنا دیتی ہے... اور ماں کی بددعا آسمان چیر کر عرش تک پہنچ جاتی ہے۔"
آپکو اس واقعہ سے کیا سبق ملا کومنٹ میں ضرور بتائیں ۔آپکا ایک لائک ایک کومنٹ اور ایک شیئر ہماری حوصلہ افزائی کرتا ہے Fllow me plz

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fz Fabrics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fz Fabrics:

Shortcuts

Share