26/11/2020
کرونا،تعلیم اور خیبرپختونخواہ.
خیبرپختونخواہ میں کرونا کی پہلی لہر ختم ہونے کے بعد اساتذہ کو اگست سے سکول میں حاضر ہونے کو کہا گیا اور بچے اکتوبر میں سکول کو آۓ، تقریباً دو مہینے خیبرپختونخواہ کے اساتذہ سکولز کو وقت پر آتے رہے اور سکولز میں لڈو کھیلتے رہے اور کرونا کو بھگانے کا دم کرتے رہے جبکہ باقی تمام صوبوں کے اساتذہ بچوں کے ساتھ اکتوبر میں سکولز کو آۓ. پھر خدا خدا کر کے تعلیمی سلسلہ جاری ہوا اور کہا گیا کہ کلاس کے آدھے بچوں کو ایک دن اور بقیہ کلاس کے بچے دوسرے دن سکول کو آئیں گے، اساتذہ دعائیں کر رہے تھے کہ کب یہ مذاق بند ہو اور باقاعدہ تعلیمی سلسلہ شروع ہو کہ اعلان ہوا کہ 26 نومبر سے پھر سکول بند کر دیے جائیں گے ... اور کہا گیا کہ اساتذہ ہفتہ میں دو دن، پیر اور جمعرات کو سکول کو آئیں گے اور سکول کے آدھے بچے پیر اور آدھے جمعرات کو آ کر پچھلا ہوم ورک چیک کروا کر نیا ہوم ورک لے کر جائیں گے... 25 نومبر کو سکولز میں بچوں کو ہوم ورک دے کر بچوں کو پیر اور جمعرات کے دن پر تقسیم کیا اور چھٹیاں دے دیں.. شام کے وقت ہمارے قابل وزیر تعلیم شہرام ترکئی نے نیا اعلان کیا کہ اب اساتذہ روزانہ سکولز کو آئیں گے اور ہر روز ایک کلاس سکول کو آۓ گی. یعنی اس ایک مہینے میں ایک بچہ سکول کو صرف چار دفعہ آۓ گا... جبکہ باقی صوبوں میں اساتذہ ہفتے میں دو دن یعنی پیر اور جمعرات کو سکولز میں آ کر بچوں کو ہوم-ورک دیں گے.
اگر آپ کو اس ساری کھچڑی کی سمجھ آ گئی ہے تو مجھے ان سوالات کے جوابات دیں...
اگر کرونا کا مرض دوبارہ پھیل چکا ہے تو ...
کیا کرونا صرف بچوں کو لگے گا، اساتذہ کرونا پروف ہیں؟
کیا کرونا صرف سکولز میں ہے، شاپنگ مال، بازار پارک وغیرہ اس مبرا ہیں؟
کیا خیبرپختونخواہ میں کرونا کی وبا علیحدہ ہے جو اساتذہ اور طلباء کے لیے الگ پلیسی بنائی گئی ہے؟
سکولز میں بچے مختلف علاقوں سے آتے ہیں، کیا راستے میں یاوین میں بھرے بچے ایس او پیز کو فالو کرتے ہوئے سکولز کو آئیں گے؟
زیادہ تر سکولز میں بہن بھائی اکھٹے آتے اور جاتے ہیں، کیا چھوٹی کلاسز کے بچے اپنے بہن بھائیوں سے الگ دن سکولز کو آئیں گے؟
کیا یہ تعلیم اور اساتذہ کے ساتھ مذاق نہیں ہو رہا.. ہماری اساتذہ تنظیمیں اس ساری صورتحال میں کیا کر رہی ہیں..
ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ سکولز میں سب زیادہ ایس او پیز کو فالو کیا جاتا ہے، اس لیئے سکولزکو بند نہ کیا جائے، پہلے ہی طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے، اگر کرونا کی وبا کی وجہ سے طلباء کی جان کو خطرہ ہے تو پھر باقی صوبوں کی طرح پیر اور جمعرات کو اساتذہ کو سکولز میں بلوا کر بچوں کو ہوم ورک دیں، خدارا اساتذہ اور تعلیم کے ساتھ اس مذاق کو بند کریں اور نمائندہ اساتذہ تنظیموں سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کا حل نکالیں.
منجانب. خیبرپختونخواہ کے لاوارث اساتذہ.