28/02/2026
چورانوے سال کے ایک بزرگ کے جھنجھوڑ دینے والے اعترافی بیان ۔۔۔
سب سے پہلی سچائی یہ ہے کہ انتظار گاہ میں جینا چھوڑ دو۔ میری زندگی کا بڑا حصہ انتظار میں گزر گیا۔ اسکول میں تھا تو سوچتا تھا ڈگری مل جائے، تب زندگی شروع ہوگی۔ نوکری ملی تو ہفتے کے اختتام کا انتظار۔ شادی ہوئی تو بچوں کے بڑے ہونے کا انتظار۔ بچے بڑے ہوئے تو ریٹائرمنٹ کا انتظار۔ میں نے ہر موجود لمحے کو محض ایک مرحلہ سمجھا، جیسے اصل زندگی کہیں آگے میرا انتظار کر رہی ہو۔ میں ہمیشہ دور افق کو دیکھتا رہا، کبھی اپنے قدموں کے نیچے موجود زمین کو محسوس نہیں کیا۔ آج سمجھ آیا ہے کہ کوئی آخری منزل نہیں ہوتی۔ سفر ہی زندگی تھا، اور میں نے سفر کو جینے کے بجائے صرف گزار دیا۔
مجھے وہ بارش والا منگل آج بھی یاد ہے۔ میں تیس برس کا تھا، دفتر میں بیٹھا گھڑی کی سوئیوں کو دیکھ رہا تھا۔ باہر بارش برس رہی تھی اور اندر میرا دل بے زار تھا۔ میں چاہتا تھا وقت تیزی سے گزر جائے۔ میں اس دن سے نجات چاہتا تھا۔ آج اگر کوئی مجھ سے کہے تو میں اپنی ساری کمائی دے کر وہی ایک دن واپس لے لوں۔ وہ کرسی، وہ خاموشی، شیشے پر پڑتی بارش کی آواز، اور میرے قدموں میں موجود طاقت۔ تم بھی شاید یہی کر رہے ہو۔ تم کہتے ہو، جب ترقی ملے گی تو خوش ہوں گے، جب پیسے زیادہ ہوں گے تو سکون آئے گا، جب کوئی خاص انسان ملے گا تو زندگی مکمل ہو جائے گی۔ تم آج کو کل کے بدلے بیچ رہے ہو، اور وہ کل شاید کبھی آئے ہی نہ۔ اپنے دنوں کو یوں ضائع مت کرو، ایک دن تمہیں احساس ہوگا کہ وہی عام سے دن سب سے قیمتی تھے۔
دوسری سچائی یہ ہے کہ سونا کھایا نہیں جا سکتا۔ میں نے پچاس برس ایک سلطنت بنانے میں لگا دیے۔ لمبے لمبے گھنٹے کام کیا، بچوں کی سالگرہیں مس کیں، تہواروں پر بھی ذہن دفتر میں اٹکا رہا۔ بیوی کی آنکھوں میں انتظار دیکھتا اور خود کو تسلی دیتا کہ میں یہ سب ان کے لیے کر رہا ہوں۔ میں نے بڑا گھر لیا، قیمتی گاڑی خریدی، مہنگے کپڑے پہنے۔ مجھے لگتا تھا یہ سب میری حیثیت بڑھا رہے ہیں، مجھے دوسروں کی نظر میں بڑا کر رہے ہیں۔ آج جب رخصت ہونے کا وقت قریب ہے تو سمجھ آ رہا ہے کہ میں جہاں جا رہا ہوں وہاں یہ سب کچھ ساتھ نہیں جائے گا۔ وہ گھر کسی اور کا ہو جائے گا، وہ دیواریں کسی اور کے ذوق کے مطابق رنگی جائیں گی، وہ گاڑی کسی کباڑ خانے میں کھڑی ہوگی، اور وہ پیسہ صرف ایک عدد بن کر رہ جائے گا۔ آج رات وہ میرا ہاتھ