18/08/2025
بیچ کی راہ... یقینی کفر
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾ۙ
ترجمہ آسان قرآن
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ (کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۵۱﴾
ترجمہ بیان القرآن (تھانوی)
ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔ (151)
تفسیر عثمانی
ف ٣ یہاں سے ذکر ہے یہود کا۔ چونکہ یہود میں نفاق کا مضمون (مادہ۔عادت۔مزاج) بہت تھا اور آپ کے زمانہ میں جو منافق تھے وہ یہود تھے یا یہودیوں سے ربط اور محبت رکھنے والے اور ان کے مشورہ پر چلنے والے تھے اس لیے قرآن شریف میں اکثر ان دونوں فریق کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسولوں سے منکر ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور مطلب یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے بیچ میں ایک نیا مذہب اپنے لیے نکالیں ایسے ہی لوگ اصل اور ڈھیٹ کافر ہیں۔ ان کے لیے خواری اور ذلت کا عذاب تیار ہے۔
فائدہ : اللہ کا ماننا جب ہی معتبر ہے کہ اپنے زمانہ کے پیغمبر کی تصدیق کرے اور اس کا حکم مانے۔ بدون (بغیر) تصدیقِ نبی کے، اللہ کا ماننا غلط ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ ایک نبی کی تکذیب اللہ کی اور تمام رسولوں کی تکذیب سمجھی جاتی ہے۔ یہود نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وعلی وآلہ وسلم) کی تکذیب کی تو حق تعالیٰ کی اور تمام انبیاء کی تکذیب کرنے والے قرار دیے گئے اور کٹے (پکے۔کٹر) کافر سمجھے گئے۔
An-Nisa' | Verse 152
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
ترجمہ بیان القرآن (تھانوی)
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سب رسول پر بھی اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ضرور ان کے ثواب دینگے اور اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت والے ہیں بڑے رحمت والے ہیں۔ (ف ٥) (152)
An-Nisa' | Verse 152
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
تفسیر مظہری
والذین آمنوا باللہ ورسلہ: اور جو لوگ اللہ اور اس کے (تمام) پیغمبروں پر ایمان لائے۔
ولم یفرقو بین احد منہم: اور ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کیا۔...... ......
اولئک سوف یوتیہم اجورہم: ان لوگوں کو ضرور اللہ ان کا ثواب عطا فرمائے گا یعنی جس ثواب کا اللہ نے وعدہ کیا ہے وہ ضرور عنایت کرے گا۔ لفظ سوف وعدہ کو پختہ کرنے اور اس امر کو ظاہر کرنے کیلئے ہے کہ ثواب لامحالہ ملے گا خواہ ملنے میں تاخیر ہو۔
وکان اللہ غفورا: اور (جو کچھ ان سے قصور ہوگیا ہو) اللہ بخشنے والا ہے۔
رحیما: ان پر مہربانی کرنے والا ہے یعنی ان کی نیکیوں کے ثواب کو چند گنا کر دے گا۔
ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ یہودیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کی طرف سے (توراۃ کی لکھی ہوئی) تختیاں لائے تھے آپ بھی (اللہ کی کتاب کی لکھی ہوئی) تختیاں اللہ کی طرف سے لا کر ہم کو دیجئے ہم آپ کو سچا جانیں۔
بغوی نے تعیین کے ساتھ ان یہودیوں کے نام کعب بن اشرف اور فخاص بن عازوراء بتائے ہیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔