28/11/2023
مجھے کھلاڑی خان کے انداز سیاست اور جمهوری شعور سے کبھی اتفاق نہیں رہا، وہ کبھی دلی طور پر میڈیا کی آزادی انسانی حقوق کی آزادی اور عورتوں کے حقوق کے قائل نہیں رہے، وہ اختلاف برداشت نہیں کرتے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، منتقمانہ رویے کی وجہ سے اپوزیشن کو قید رکھا، کھلاڑی خان جب مقتدرہ کے ساتھ ایک صفحے پر ہوتے تھے میں نے اس وقت ایک کالم یہ کمپنی نہیں چلے گی“ لکھا تھا، جس پر مجھے دھمکیاں ملیں ٹرولنگ کی گئی گالیوں بھرے فون آئے، میرے نام سے ٹرینڈ بنا کر برا بھلا کہا گیا۔
میڈیا کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لئے میر شكيل الرحمن کو گرفتار کیا گیا تو میں نے "آت خدا دا ویر ہوندا کے عنوان سے کالم لکھ کر کھلاڑی خان کو خبردار کیا تھا کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا انجام اچھا نہ ہوگا۔ کھلاڑی خان نے اقتدار کے آخری دن تک کسی کی نہ سنی اور پھر یہ کمپنی چل نہ سکی اور اب آت خدا
دا ویر والی کہانی چل رہی ہے۔