Decent Mobile Accessories Whole Sale Dealer

Decent Mobile Accessories Whole Sale Dealer Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Decent Mobile Accessories Whole Sale Dealer, Accessories, GUL TOWER SHOP NO. 1, BASEMENT, ASHRAF Road, FIRDOUS CHOWK, Peshawar.

23/02/2024

پوری فیس بک سے آواز آنی چاہیے
تاجدارِ ختم نبوت زندہ باد ,

31/08/2023

*قرض اتارنے کا آٸیڈیا*

فیصل آباد کے ایک نوجوان کی جانب سے پاکستان کا قرضہ اتارنے کے لئے حکومت کو مفید مشورہ اور ایک آئیڈیا دیا ھے

اس کا کہنا تھا کہ یہ ملک کا قرضہ اتارنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے.
لیکن یہ حکمران خود نہیں چاہتے کہ قرضہ اترے.

آسان سی پالیسی ھے تحریر مکمل پڑھیں اور ضرور پڑھیں پھر آپکو پتہ چلے گا

17 گریڈ کے افسران, ججز , وزراء ,مشیر, ڈپٹی کمشنرز,اسسٹنٹ کمشنرز, ڈی پی اوز, ڈی ایس پیز, ایس ایچ اوز, ڈسٹرکٹ آفیسرز, سی ای اوز, ڈی ای اوز, کالجز کے پروفیسرز,سکولز کے ہیڈ ماسٹرز, پیف والے پرائیویٹ سکولز مالکان, پراپرٹی ڈیلرز, تحصیلدار, پٹواری, بزنس مین, فوجی افسران, خفیہ اداروں کے افسران, فیکٹریوں کے مالکان, ملز مالکان, بڑے سرمایہ داران, آڑھتی , تاجران, تیس چالیس ایکڑ سے زیادہ اراضی والے زمینداران, سب کو ملا کر تعداد گنی جائے تو دو کروڑ آرام سے بن جائیں گے.
ان سب سے گورنمنٹ کا بیس بیس ہزار بطور قرض لینا معمولی سی بات ہے. جو کہ چار کھرب ماہانہ بنتا ہے.

اسکے بعد
297 پنجاب کے ایم پی ایز
130سندھ کے ایم پی ایز
124کے پی کے ایم پی ایز
65بلوچستان کے ایم پی ایز
336ایم این ایز
کل 965 اقتدار میں موجود سیاسی شخصیات ہیں جن سے صرف پانچ پانچ کروڑ فی کس لیا جانا عام سی بات ہے. اور ان لوگوں کیلئے یہ رقم دینا کوئی بڑی بات بھی نہیں ھے تویہ پچاس ارب بنتا ہے.

اسکے بعد
ایک کروڑ ملک بھر کے سرکاری ملازمین تو ہوں گے جن سے صرف دو ہزارماہانہ بطور قرض لیا جائے تو ماہانہ بیس ارب بنتا ہے.

بیس ہزار سے زائد انکم والے پرائیوٹ ملازمین کم ازکم تو پانچ کروڑ ہونگے جن سے صرف پانچ سو روپے ماہانہ قرض لیا جائے جو کہ پچیس ارب بنتا ہے.
کل تقریبا پانچ کھرب ہو گیا.

اور گورنمنٹ اپنے بجٹ میں سے اپنے ریونیو میں سے ایک کھرب ڈالے کل چھ کھرب روپے .
یعنی کہ تقریباً 34ارب ڈالر بنتا ہے۔⁩⁦

فرض کیا جائے کہ پاکستان پر مجموعی طور پرسو ارب ڈالر قرضہ ہو تو تین ماہ کی قلیل مدت جولائی تا ستمبر میں قرضہ اُن کے منہ پر مارا جاسکتا ہے. اور اسی پالیسی کے تحت اگلے تین ماہ اکتوبر تا دسمبر میں ہم آئی ایم ایف کو کہہ سکتے ہیں جتنا تم نے قرضہ دیا تھا اب اتنا ہم سے لے سکتے ہوں. اور اگر یہ ہی اکتوبر تا دسمبر کااتنابڑا ریونیو پاکستان اپنے دفاع ریلوے سڑکوں پی آئی اے اور دیگر اداروں پر لگا دے تو ہمارا ملک کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے. صرف چھ ماہ میں مہنگائی کا تو نام ونشان ہی مٹ جائے گا انشاء اللہ تعالی

پھر ان اداروں سے جو ریونیو آئے گا وہ اوپر بیان کردہ جس جس پاکستانی
سے رقوم بطور قرض وصول کی گئی ہونگی انکو واپس لوٹانے کا سلسہ شروع کیا جائے اور دو تین سال میں آرام سے واپس ہو جائے گا.
اور اگر کوئی حب الوطنی کے تحت دیا گیا قرضہ ملک پر قربان کردے تو یہ تو اور بھی اچھی بات ھوگی
👇
یاد رہے میں کوئی معیشت دان نہیں ایک عام پاکستانی ہوں ۔۔ا

Coppied

برائے مہربانی اس کو آگے تک اتنا پھیلائیں کہ یہ بات حکمرانوں تک ، اور ماہرین معاشیات تک پہنچے تاکہ وہ ملک کیلئے کچھ اچھا فیصلہ کریں

یہ ملک اور عوام اب باھر کے قرضوں پر نہیں چل سکتا ،
کیونکہ دنیا کے سامنے رسوائی اور ذلت الگ ھے اور ان کی کڑی شرائط اور ڈیمانڈ وہ الگ ھیں جس کے نتیجے میں حکومت کو ٹیکسز لگانے پڑتے ھیں اور نتیجتاً مہنگائی کا ایک طوفان آتا ھے اور اس ملک کے متوسط اور غریب عوام کو ھی بھگتنا پڑتا ھے

اسی لیئے خدارا خدارا :
ایسا راہ حل تلاش کیا جائے کہ عوام پر ایک ھی دفعہ بوجھ ڈالیں اور قرض اتاریں، اور اس ملک کو قرض کے دلدل سے باھر نکالیں
اس ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط اور خود مختار بنائیں

ھمارا وطن ھماری عوام اب زیادہ قرضوں کا متحمل نہیں ھوسکتے

اور اگر آپ کے پاس بھی اس سے بہتر کوئی حل ھے تو اس کو بھی آگے تک پھیلائیں تاکہ ھماری عوام ایک آواز ھوکر حکمرانوں سے یہ مطالبہ کرے

جناب کی بڑی مہربانی جو مشورہ دیا ھے لیکن عام ادمی کا کہنا ھے کہ ایک دن میں پاکستان کا قرض اتر سکتا ھے جس پر ھمیں بھی یقین ھے کہ واقعی پاکستان کا قرض صرف اور صرف ایک دن میں اتر سکتا ھے
جس کا ماڈل ایران ھے چین ھے اور کییء ملک ھیں جو کامیاب ھیں
جناب ایک دن اور صرف ایک دن میں قرض اترجاءے گا

share this message in all groups.

19/08/2023

تاریخ کے جھروکے __!!
مالدیپ جو صرف 2 ماہ میں بدھ مت چھوڑ کر پورا مسلمان ملک ہوا !
مالدیپ🇲🇻 بحر ھند میں واقع ایک سیاحتی ملک ہے، یہ ملک 1192 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف 200 جزیروں پر انسانی آبادی پائی جاتی ہے۔

مالدیب کی ٪100 آبادی مسلمان ہے جب کہ یہاں کی شہریت لینے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے۔

عجیب بات یہ ہےکہ مالدیب بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک تھا صرف 2 ماہ کے اندر اس ملک کا بادشاہ،عوام اور خواص سب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

مگر یہ معجزہ کب اور کیسے ہوا ؟

یہ واقعہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے مالدیب کی سیاحت کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے ابن بطوطہ ایک عرصے تک مالدیب میں بطور قاضی کام کرتے بھی رہے ہیں۔

وہ اپنی کتاب ' تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأمصار ' میں لکھتے ہیں کہ

مالدیب کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور حد درجہ توہم پرست بھی اسی بدعقیدگی کے باعث ان پر ایک عفریت (جن) مسلط تھا، وہ عفریت ہر مہینہ کی آخری تاریخ کو روشنیوں اور شمعوں کے جلو میں سمندر کی طرف سے نمودار ہوتا تھا اور لوگ سمندر کے کنارے بنے بت خانہ میں ایک دوشیزہ کو بناؤ سنگھار کرکے رکھ دیتے وہ عفریت رات اس بت خانے میں گزارتا اور صبح وہ لڑکی مردہ پائی جاتی اور لوگ اس کی لاش کو جلاتے.

عفریت کے لئے دوشیزہ کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا اس بار قرعہ اندازی میں ایک بیوہ بڈھیا کی بیٹی کا نام نکل آئی اس پر رو رو کر بڈھیا نڈھال ہوچکی تھی گاؤں کے لوگ بھی بڈھیا کے گھر جمع تھے ،دور سے آئے اس مسافر نے بھی
بڈھیا کے گھر کا رخ کیا اس کے استفسار پر اسے سب کچھ بتایا گیا کہ عفریت کے مظالم کتنے بڑھ گئے ہیں۔

مسافر نے بڈھیا کو دلاسہ دیا اور عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ آج رات آپ کی بیٹی کی جگہ بت خانے میں مجھے بٹھایا جائے، پہلے تو وہ لوگ خوف کے مارے نہ مانے کہ عفریت غصہ ہوئے تو ان کا انجام بد ہوسکتا ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا وہ راضی ہوگئے، مسافر نے وضو کیا اور بت خانے میں داخل ہو کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی
عفریت آیا اور کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا، لوگ صبح نہار بت خانہ کے باہر جمع ہوئے تاکہ لاش جلائی جا سکے لیکن مسافر کو زندہ دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے۔

یہ مسافر مشہور مسلم داعی مبلغ اور سیاح ابو البرکات بربری تھے، ابو برکات کی آمد اور عفریت سے دو دو ہاتھ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، بادشاہ نے شیخ کو شاہی اعزاز کے ساتھ اپنے دربار میں بلایا شیخ ابو برکات نے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور صرف 2 ماہ کے اندر مالدیب کے سب لوگ بدھ مت سے تائب ہو کر مسلمان ہوچکے تھے۔

یہ 1314ء کی بات ہےاس مبلغ اور داعی نے مالدیب کو اپنا مسکن بنایا لوگوں کو قرآن وحدیث کی تعلیم دی، ہزاروں مسجدیں تعمیر کیں، اور مالدیب میں ہی فوت ہوئے اسی مٹی پر ہی دفن ہوئے۔

کہنے کو ابو البرکات بربری ایک شخص لیکن تنہا ایک امت کا کام کر گئے، آج بھی ان کو برابر اجر مل رہا ہوگا۔“

30/11/2021
Iphone Otg for Sharing data iphone to Usb
10/06/2021

Iphone Otg for Sharing data iphone to Usb

New power banks available for sale
14/12/2020

New power banks available for sale

New stock available
14/12/2020

New stock available

New mp3 speakers are available best quality & sound
14/12/2020

New mp3 speakers are available best quality & sound

12/09/2020
New stock Available
12/09/2020

New stock Available

Address

GUL TOWER SHOP NO. 1, BASEMENT, ASHRAF Road, FIRDOUS CHOWK
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00

Telephone

03469870733

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Decent Mobile Accessories Whole Sale Dealer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Decent Mobile Accessories Whole Sale Dealer:

Share

Category