Muzamil Fabrics Raiwind

Muzamil Fabrics Raiwind Your One-Stop Destination for Branded Unstitched Fashion! Explore our vast collection of high-quality, branded unstitched dresses for men & women.

From casual to formal, we've got you covered. Visit us today & discover the latest trends in fabric fashion

06/09/2025
13/08/2023

May our country, Pakistan achieve success in every possible way.
Happy Independence Day!

"Revamp your wardrobe with Laaj Fabrics' latest arrivals - a fusion of cultural heritage and contemporary designs, showc...
10/08/2023

"Revamp your wardrobe with Laaj Fabrics' latest arrivals - a fusion of cultural heritage and contemporary designs, showcased in our stunning men's kurta salwar kameez collection."

"Celebrate the art of traditional fashion with Laaj Fabrics' exclusive range of menswear kurta salwar kameez, crafted wi...
04/08/2023

"Celebrate the art of traditional fashion with Laaj Fabrics' exclusive range of menswear kurta salwar kameez, crafted with passion and attention to detail."

"Experience the finesse of handpicked fabrics and impeccable tailoring at Laaj Fabrics, your one-stop destination for pr...
02/08/2023

"Experience the finesse of handpicked fabrics and impeccable tailoring at Laaj Fabrics, your one-stop destination for premium men's kurta salwar kameez."

"Elevate your style quotient with Laaj Fabrics' finely crafted menswear, offering an array of classic and contemporary k...
01/08/2023

"Elevate your style quotient with Laaj Fabrics' finely crafted menswear, offering an array of classic and contemporary kurta salwar kameez options to suit every occasion."

نجی رفاہی تنظیم سکائن لائن ٹرسٹ کی جانب سے اہل رائے ونڈ کی سہولت کے لیے جدید ایئر کنڈیشن ایمبولینس ،،،جلد آرہی ہے ،،،
31/07/2023

نجی رفاہی تنظیم سکائن لائن ٹرسٹ کی جانب سے اہل رائے ونڈ کی سہولت کے لیے جدید ایئر کنڈیشن ایمبولینس ،،،جلد آرہی ہے ،،،

"Discover the essence of timeless elegance with Laaj Fabrics' exquisite collection of men's wear, featuring stunning kur...
31/07/2023

"Discover the essence of timeless elegance with Laaj Fabrics' exquisite collection of men's wear, featuring stunning kurta salwar kameez designs that blend tradition and modernity.

10/07/2023

بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے

قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی

آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں

کیوں

پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں

تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی

*صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں*

زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے

وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے

پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں

دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں

انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں

ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے

کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے

بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے

*دن کے ایک بجے* سر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے

یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے

ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار ماہ جبینیں چہرہ، پائوں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،، !

اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا

دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،

*اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں*

برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں *برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا*

لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے

*اب 2018ء میں آتے ہیں*

پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں

آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں

بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے

*اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا*

بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !

حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔

اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟

کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،

کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.

*جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی*.

اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاھک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.

09/07/2023

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بزرگ مہنگا ٹکٹ خریدنا چاہتے تھے‘ ایجنٹ انھیں سستا ٹکٹ دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
وہ دونوں مسلسل تکرار کر رہے تھے‘ ایجنٹ بتا رہا تھا‘ سر یہ بھی فرسٹ کلاس ہے‘ یہ آپ کو چار لاکھ روپے سستی پڑے گی۔ لیکن بزرگ کا کہنا تھا‘ بیٹا میں نے آپ سے سستی ٹکٹ کا مطالبہ نہیں کیا‘ مجھے ایسی فرسٹ کلاس چاہیے جس میں بیڈ لگا ہو‘ میں ہوائی سفر کے دوران بیڈ کو انجوائے کرنا چاہتا ہوں‘۔۔۔
ایجنٹ انھیں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ’’سر یہ سیٹ بھی پورا بیڈ بن جاتی ہے‘ آپ اسے بھی انجوائے کریں گے۔ آپ اپنا پیسہ بلاوجہ ضائع نہ کریں‘‘
لیکن بزرگ ڈٹے رہے‘ ان کا کہنا تھا‘ میں مہنگی ترین سیٹ ہی لوں گا‘
میں یہ تکرار مزے سے دیکھ رہا تھا‘ تکرار کے آخر میں فیصلہ ہو گیا‘ ایجنٹ نے بزرگ کو سیٹ دے دی‘ وہ سیٹ انھیں ساڑھے تیرہ لاکھ روپے میں پڑی‘ یہ بہت بڑی رقم تھی لیکن بزرگ نے چیک بک نکالی‘ دستخط کیے اور چیک ایجنٹ کے حوالے کر دیا‘ میں اس فضول خرچی پر حیران ہو گیا۔
میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی شخص کو اتنا مہنگا ٹکٹ خریدتے دیکھا تھا چنانچہ میں نے ان سے معذرت کی اور عاجزی سے پوچھا ’’سر آپ کیا کرتے ہیں‘‘
وہ میری طرف مڑے‘ غور سے مجھے دیکھا اور مسکرا کر بولے ’’میں کچھ نہیں کرتا‘ میں ریٹائر لائف گزار رہا ہوں‘‘
میں نے پوچھا ’’آپ ریٹائر ہونے سے پہلے کیا کرتے تھے‘‘
وہ بڑے پیار سے بولے ’’میری کپڑے کی دکان تھی‘‘
میں نے پوچھا ’’دکان یا فیکٹری‘‘
وہ بولے ’’پندرہ بائی بیس فٹ کی چھوٹی سی دکان‘‘
میں نے پوچھا ’’کیا یہ آپ کا کل کاروبار تھا‘‘
وہ ہنس کر بولے ’’ہاں سو فیصد‘ میں نے راولپنڈی میں چالیس سال کپڑا بیچا‘‘۔
میں نے پوچھا ’’آپ کے پاس پھر لمبی چوڑی زمین جائیداد ہو گی‘‘
وہ فوراً بولے ’’ہرگز نہیں‘ بس ایک آبائی گھر تھا اور دو دکانیں تھیں‘ دکانیں دونوں بیٹوں نے لے لی ہیں‘ مکان میں نے آدھا بیچ دیا ہے اور آدھا بچوں کو دے دیا ہے‘‘
میں نے پوچھا ’’کیا آپ بچوں کے ساتھ رہتے ہیں‘‘
بولے ’’ہرگز نہیں‘ میں دو سال سے ہوٹل میں رہ رہا ہوں‘ سال میں ایک بار ملک سے باہر جاتا ہوں‘ ریستورانوں میں کھانا کھاتا ہوں اور بس‘‘
میری حیرت آسمان کو چھونے لگی۔
میں نے عرض کیا ’’پھر آپ نے اتنا مہنگا ٹکٹ کیوں خریدا‘ میں نے آج تک امیر سے امیرترین لوگوں کو بھی ایک سفر پر ساڑھے تیرا لاکھ روپے کا ٹکٹ خریدتے نہیں دیکھا اور آپ بظاہر امیر بھی نہیں ہیں چنانچہ میں آپ کی فضول خرچی پر حیران ہوں‘‘ بزرگ نے قہقہہ لگایا اور پھر زندگی کا ایک نیا رخ میرے سامنے رکھ دیا۔
وہ بولے ’’میں راولپنڈی میں کپڑے کا کاروبار کرتا تھا‘ دکان اچھی چل رہی تھی‘ دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں‘ بیوی نیک اور گھریلو تھی‘ میں فیصل آباد کے ایک مل اونر سے کپڑا خریدتا تھا اور وہ کپڑا پرچون میں بیچ دیتا تھا‘ میں ہفتے میں ایک بار فیصل آباد جاتا تھا‘ میری اس آمدورفت کی وجہ سے وہ مل اونر میرا دوست بن گیا‘ وہ جب بھی راولپنڈی آتا تھا‘ وہ پی سی میں ٹھہرتا تھا‘ مجھے دعوت دیتا تھا اور میں اس کے ساتھ کھانا کھاتا تھا‘ وہ گرِل فش بڑی رغبت سے کھاتا تھا‘ وہ مجھے بتایا کرتا تھا وہ دن میں ایک بار سالمن فش ضرور کھاتا ہے‘ میں نے اس کے ساتھ سالمن فش کھانی شروع کی تو میں بھی اس کا عادی ہو گیا۔
میں بھی فش کھانے لگا‘ ہم دونوں دوست تھے لیکن پھر اس بیچارے کا ڈاؤن فال شرع ہو گیا‘ پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پیدا ہو گیا‘ حکومت نے ٹیکس بڑھا دیے‘ فیکٹریوں میں یونینز بن گئیں‘ را مٹیریل بھی مہنگا ہو گیا اور اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری بھی شروع ہو گئی‘ بنگلہ دیش نے اس دور میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ٹیکس فری کر دیا‘ میرا دوست بنگلہ دیش گیا‘ بنگالی بزنس مین کے ساتھ ’’جوائنٹ وینچر‘‘ کیا اور اپنی فیکٹری بنگلہ دیش شفٹ کر دی‘ وہ بنگلہ دیش میں کامیاب ہو گیا لیکن پھر دونوں پارٹنرز کے درمیان اختلاف ہوا۔
معاملہ عدالت تک گیا اور بنگلادیش کی عدالت نے بنگالی بزنس مین کے حق میں فیصلہ دے دیا یوں وہ بیچارا محل سے فٹ پاتھ پر آگرا‘ وہ واپس پاکستان آ گیا‘ فیصل آباد میں اس دوران اس کی پراپرٹی پر قبضہ ہو چکا تھا‘ وہ یہاں بھی کورٹ کچہریوں میں الجھ گیا‘ بیوی یہ اتار چڑھاؤ برداشت نہ کر سکی‘ وہ بیمار ہوئی اور انتقال کر گئی‘ اس نے لاہور میں ایک انڈسٹریل یونٹ لگایا‘ وہ یونٹ بیٹے کے حوالے کیا‘ بیٹے نے وہ برباد کر دیا‘ دوسرے بیٹے کو کاروبار میں ڈالا‘ وہ بھی ناکام ہوا اور بیوی بچوں کو لے کر کینیڈا شفٹ ہو گیا۔
بڑا بیٹا ناکامی کے بعد نشے کا عادی ہو گیا‘ وہ نشے کے ہاتھوں اسپتال پہنچ گیا‘ بیٹی کی شادی کی‘ سسرال نے گھر مانگ لیا‘ اس نے اپنا واحد گھر بیٹی کو دے دیا‘ یار دوست بھاگ گئے اور عزیز رشتے دار سائیڈ پر ہو گئے اور یوں وہ بے چارہ پوری دنیا میں بے دست و پا ہو گیا۔
میں اس کے عروج وزوال کا عینی شاہد تھا‘ وہ خوددار تھا‘ اس نے مجھ سے ملنا بھی ترک کر دیا تھا لیکن میں اسے ڈھونڈ ڈھانڈ کر مل لیتا تھا‘ ہم گرِل فش کھاتے تھے‘ پرانا وقت یاد کرتے تھے اور ہنس رو کر اپنے اپنے ٹھکانے پر آ جاتے تھے‘ وہ زندگی کے بوجھ کے ساتھ ساتھ چلتا رہا لیکن پھر ایک ایسا وقت آ گیا جب کرائے کا مکان بھی اس کے بس کی بات نہ رہا۔
وہ حقیقتاً کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا اور پھر ایک دن وہ غائب ہو گیا‘ میں اسے تلاش کرتا رہا لیکن وہ نہ ملا‘ میں اپنے کام کاج میں مصروف ہو گیا‘ مجھے ایک دن ایدھی فاؤنڈیشن سے فون آیا‘ مجھے بتایا گیا آپ کا ایک عزیز شدید علالت میں ہمارے پاس موجود ہے‘ آپ سے ملنا چاہتا ہے‘
میں تشویش کے عالم میں ایدھی فاؤنڈیشن پہنچ گیا‘ وہ مجھے اولڈ پیپل ہوم میں لے گئے‘ میں اندر داخل ہوا تو وہ علالت کے عالم میں بستر پر پڑا تھا‘ داڑھی بڑھی ہوئی تھی‘ شوگر‘ بلڈ پریشر اور دل کا مرض بے قابو ہو چکا تھا اور وہ حقیقتاً ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا‘ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ میں اس کے پاس بیٹھ گیا۔
وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور آہستہ آوازمیں بولا ’’یار شکور صاحب گرِل فش کھانے کا بہت دل کر رہا ہے‘ میں نے فش کے لالچ میں ان لوگوں کو آپ کا نمبر دے دیا تھا‘‘
میں آنکھیں پونچھتا ہوا اٹھا‘ پی سی گیا‘ گرِل فش پیک کرائی اور اس کے پاس آ گیا‘ اس نے بڑی مدت بعد اچھا اور صاف ستھرا کھانا کھایا‘ میں اس کے بعد روزانہ اس کے پاس جاتا‘ ہم گرِل فش کھاتے اور دھوپ میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے‘ میں نے اسے اپنے گھر لانے کی کو شش کی لیکن اس نے انکار کر دیا‘ بہرحال قصہ مختصر وہ بہتر ہو گیا‘ وہ اب چل پھر بھی سکتا تھا اور اپنے کام بھی خود کر سکتا تھا‘ اس نے اس کے بعد اپنی باقی زندگی ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے وقف کر دی۔
وہ اولڈ پیپل ہوم میں رہتا تھا‘ بیماروں کی خدمت کرتا تھا‘ نماز پڑھتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا تھا‘ ہم دونوں ہفتے میں ایک بار ہوٹل جاتے تھے‘ گرِل فش کھاتے تھے اور کافی پیتے تھے‘ یہ روٹین اس کے مرنے تک جاری رہی‘
میں اسے ایک رات واپس چھوڑ کر آیا‘ وہ بستر پر لیٹا اور پھر دوبارہ نہ اٹھ سکا‘ ہم نے اس کے بچوں سے رابطے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے‘ ہمارے پاس کینیڈا والے بیٹے کا نمبر نہیں تھا‘ دوسرا بیٹا اسپتال میں زیر علاج تھا‘ اسے ہوش نہیں تھا‘ بیٹی خاوند اور بچوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کے لیے یورپ گئی ہوئی تھی۔
ہمارے پاس اس کا رابطہ نمبر نہیں تھا‘ عزیز رشتے دار اور دوست احباب کو بلانے سے اس نے روک دیا تھا‘ وہ وصیت کر کے مرا تھا میری موت کی کوئی اناؤنسمنٹ نہیں ہو گی اور میرے کسی عزیز رشتے دار کو اطلاع نہیں دی جائے گی چنانچہ اجنبی لوگوں نے اس کا جنازہ پڑھا‘ اجنبیوں نے اسے قبر میں اتارا اور اجنبی قبرستان میں اسے دفن کر دیا گیا‘
میں دوبارہ اپنے کاروبار میں مصروف ہو گیا‘ میں نے ایک دن اپنے بڑے بیٹے کو ڈانٹ دیا‘ بیٹا بپھر گیا اور بولا ’’آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟‘‘ یہ فقرہ سیدھا میرے سینے میں لگا۔
مجھے اپنا مرحوم دوست یاد آ گیا اور احساس ہوا‘ یہ سب مایا ہے‘ یہ سارا مایا ختم ہو جائے گا‘ مال وہ ہے جو آپ نے استعمال کر لیا اور خوشی وہ ہے جو آپ نے محسوس کر لی اور بس‘
میری بیوی فوت ہو چکی تھی‘ بچے شادی شدہ تھے‘ میں نے دونوں بیٹوں کو ایک ایک دکان دے دی‘ مکان بازار میں آ چکا تھا‘ میں نے آدھا مکان بیچ دیا‘ مجھے بارہ کروڑ روپے ملے‘ میں ہوٹل میں شفٹ ہو گیا‘ میں اب آدھا دن ایدھی فاؤنڈیشن میں کام کرتا ہوں‘ صبح شام ایکسرسائز کرتا ہوں‘ سوئمنگ کرتا ہوں‘ گرِل فش کھاتا ہوں‘ سوٹ پہنتا ہوں‘ ہوٹل کی گاڑی استعمال کرتا ہوں‘سال میں ایک بار مہنگا ترین ٹکٹ لے کر ملک سے باہر جاتا ہوں اور مزے کر رہا ہوں۔۔۔۔۔

وہ خاموش ہو گئے‘ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھتا رہا اور وہ مسکراتے رہے‘ میں نے عرض کیا ’’آپ جس طرح رقم اڑا رہے ہیں یہ بارہ کروڑ کب تک آپ کا ساتھ دیں گے‘‘
بزرگ نے قہقہہ لگایا اور بولے ’’سال کا ایک کروڑ روپے خرچ آتا ہے‘ میرا خیال ہے میں بارہ کروڑ سے پہلے فوت ہو جاؤں گا‘
میں نے عرض کیا ’’اور آپ اگر بچ گئے‘ اللہ نے اگر آپ کو لمبی زندگی دے دی تو؟‘‘
انھوں نے قہقہہ لگایا اور بولے ’’میں بھی اپنے دوست کی طرح ایدھی فاؤنڈیشن شفٹ ہو جاؤں گا‘ آپ جیسے کسی دوست کی مدد سے ہفتے میں ایک دن گرِل فش کھاؤں گا اور موت کے فرشتے کا انتظار کروں گا‘‘۔

•┈┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈┈•

04/07/2023

Address

Near Milad Chowk, Kot Khizan Singh, Main Bazar
Raiwind
55150

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 20:00

Telephone

+923225777776

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muzamil Fabrics Raiwind posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muzamil Fabrics Raiwind:

Share