Nayab collections

Nayab collections Accessories onlin seeling

14/01/2026

*مچھر کی قرآنی مثال اور جدید سائنس کا انکشاف: ایک ایسا معجزہ جو رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے!*

تصور کرو، ایک ننھا سا مچھر، جسے ہم اکثر حقیر اور تکلیف دہ سمجھتے ہیں، مگر اللہ نے اسے اپنی کتاب میں مثال بنا کر پیش کیا – اور آج کی جدید سائنس اسی مثال کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے!
چودہ سو سال پہلے صحرا میں، جب مائیکروسکوپ کا نام و نشان نہ تھا، اللہ نے ایک ایسی آیت نازل فرمائی جو آج بھی سائنسدانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ آج کی نصیحت مچھر کی قرآنی مثال اور اس کے سائنسی انکشافات پر ہے – پڑھو، غور کرو، اور ایمان میں اضافہ کرو!

اَلسَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ 🤲

پیارے بھائیو اور بہنو! 💖

قرآن مجید محض عبادات کی کتاب نہیں، یہ فکر و تدبر کی دعوت دینے والی ایک زندہ و جاوید کتاب ہے۔ اس کا ہر لفظ اپنے اندر حکمتوں کے خزانے سموئے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کی نشانیاں واضح کرنے کے لیے کائنات کی بڑی سے بڑی مخلوق سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق تک کی مثالیں بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت اہم اور فکر انگیز مثال **"مچھر"** کی ہے، جس کا ذکر سورۃ البقرہ میں آیا ہے۔

**قرآنی پس منظر: مثال کیوں دی گئی؟**
جب قرآن میں مکڑی اور مکھی جیسی حقیر سمجھی جانے والی مخلوقات کی مثالیں بیان ہوئیں تو کفار اور منافقین نے اعتراض کیا کہ اللہ جیسی عظیم ذات کا کیا کام کہ وہ ایسی چھوٹی اور بے وقعت چیزوں کا تذکرہ اپنی کتاب میں کرے؟ ان کے نزدیک یہ رب کی شان کے خلاف تھا۔

اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 26 نازل فرمائی:

**"إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ"**

ترجمہ:
"یقیناً اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی مثال بیان کرے، مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی) جو اس سے بھی بڑھ کر (چھوٹی یا اس کے اوپر) ہو۔ پس جو لوگ ایمان لائے تو وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اور جو کافر ہوئے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے اس مثال سے کیا ارادہ کیا؟ اس سے وہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے۔ اور اس سے وہی گمراہ ہوتے ہیں جو فاسق ہیں۔"

اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ مخلوق چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی تخلیق میں خالق کی کاریگری اور حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی چیز اتنی حقیر نہیں کہ خالق اسے بطور مثال پیش کرنے میں عار محسوس کرے۔

**مچھر: جدید سائنس کی نظر میں ایک پیچیدہ مشین**
عام انسان کی نظر میں مچھر ایک معمولی، بلکہ تکلیف دہ کیڑا ہے جسے مار کر پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن جدید سائنس، خاص طور پر اینٹومولوجی (Entomology - حشرات کا علم) اور مائیکرو بیالوجی نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ ننھی سی مخلوق اللہ کی تخلیق کا ایک شاہکار ہے۔

🔹 **پیچیدہ جسمانی نظام:**
ایک مچھر، جس کا وزن بمشکل چند ملی گرام ہوتا ہے، اس کے اندر وہ تمام پیچیدہ نظام موجود ہیں جو بڑے جانوروں میں ہوتے ہیں۔ اس کا اپنا ہاضمے کا نظام، اعصابی نظام، دورانِ خون کا نظام اور تولیدی نظام ہے۔ اتنی مختصر سی جگہ میں ان تمام سسٹمز کا کامل انداز میں کام کرنا بذاتِ خود ایک معجزہ ہے۔

🔹 **جدید ترین سینسرز:**
مچھر کو اپنا شکار تلاش کرنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اللہ نے اسے جدید ترین تھرمل سینسرز (حرارت محسوس کرنے والے آلات) اور کیمیائی ڈٹیکٹرز عطا کیے ہیں۔ یہ اندھیرے میں بھی انسان کے جسم سے نکلنے والی حرارت اور سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کو کئی فٹ دور سے محسوس کر لیتا ہے۔

🔹 **کاٹنے کا جدید ترین میکانزم (Surgical Toolkit):**
ہم سمجھتے ہیں کہ مچھر سوئی کی طرح ایک ڈنک چبھو کر خون پیتا ہے، لیکن سائنس بتاتی ہے کہ یہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ مادہ مچھر کا ڈنک (Proboscis) درحقیقت چھ انتہائی باریک بلیڈز اور نالیوں پر مشتمل ایک مکمل "سرجیکل ٹول کٹ" ہے:
- دو بلیڈز جلد کو چیرتے ہیں۔
- دو بلیڈز ٹشوز کو ہٹا کر راستہ بناتے ہیں۔
- ایک نالی سے وہ اپنا لعاب (Saliva) داخل کرتی ہے جو فوری طور پر اس جگہ کو سن (Anesthetize) کر دیتا ہے تاکہ انسان کو درد محسوس نہ ہو، اور ساتھ ہی خون کو جمنے سے روکتا ہے (Anti-coagulant)۔
- آخری نالی سے وہ خون چوستی ہے۔
یہ سارا عمل چند سیکنڈز میں اتنی مہارت سے ہوتا ہے کہ ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔

**"فَمَا فَوْقَهَا" (جو اس کے اوپر ہے) کا سائنسی مفہوم**
آیت کا سب سے حیران کن حصہ وہ ہے جہاں اللہ فرماتا ہے: **"مچھر کی مثال ہو یا جو اس کے اوپر ہے۔"**
عربی میں "فَوقَ" کا مطلب "اوپر" بھی ہوتا ہے اور "اس سے بڑھ کر" (یعنی اس سے بھی چھوٹی چیز) بھی۔ جدید سائنس نے ان دونوں مفہومات کو حیرت انگیز طور پر اجاگر کیا ہے:

1. **مچھر سے چھوٹی مخلوق (مائیکروسکوپک دنیا):**
آج ہم جانتے ہیں کہ مچھر ملیریا، ڈینگی اور زیکا جیسے امراض پھیلاتا ہے۔ یہ بیماریاں دراصل ان جراثیموں (Bacteria/Viruses/Parasites) کی وجہ سے ہوتی ہیں جو مچھر کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ مثلاً ملیریا کا پیراسائٹ (Plasmodium) مچھر کے مقابلے میں ہزاروں گنا چھوٹا ہے لیکن اس کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے۔ 1400 سال پہلے جب مائیکروسکوپ کا وجود نہیں تھا، قرآن نے اس چھوٹی مخلوق کے اندر اس سے بھی چھوٹی اور پیچیدہ دنیا کی طرف اشارہ کر دیا۔

2. *مچھر کے جسم کے "اوپر" موجود مخلوق:*
یہ مفہوم اور بھی زیادہ دنگ کر دینے والا ہے۔ جدید الیکٹران مائیکروسکوپ (Electron Microscope) کی مدد سے لی گئی تصاویر نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ان تصاویر میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے کہ مچھر کے جسم کے اوپر بھی اس سے کہیں چھوٹی مخلوقات (مثلاً مختلف اقسام کے Mites یا طفیلی کیڑے) رہائش پذیر ہوتی ہیں اور اسی پر پلتی ہیں۔

جب ہم قرآن کے الفاظ **"مچھر... یا جو اس کے اوپر ہے"** پڑھتے ہیں اور پھر مائیکروسکوپ سے لی گئی ان تصاویر کو دیکھتے ہیں جن میں مچھر کی پیٹھ پر دوسری ننھی مخلوقات سوار ہیں، تو بے اختیار زبان سے نکلتا ہے کہ یہ کلام واقعی اس ذات کا ہے جو ظاہر و باطن اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کا علم رکھنے والی ہے۔

**نتیجہ: اللہ کی قدرت کا کھلا معجزہ**
مچھر کی قرآنی مثال ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز بے مقصد یا حقیر نہیں ہے۔ جس مخلوق کو انسان اپنی کم علمی کی وجہ سے معمولی سمجھتا ہے، وہ خالق کی قدرت کا ایک عظیم نمونہ ہو سکتی ہے۔

جدید سائنس آج مچھر کی پیچیدہ ساخت اور اس کے اوپر اور اندر موجود دنیا کو دریافت کر کے درحقیقت قرآن مجید کی حقانیت اور اس کی آیات میں چھپی گہری حکمتوں کی گواہی دے رہی ہے۔ اہل ایمان کے لیے یہ مثالیں ہدایت اور یقین میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، جبکہ منکرین کے لیے یہ محض بحث کا موضوع رہ جاتی ہیں۔ جیسا کہ اسی آیت کے آخر میں اللہ فرماتا ہے:
**"يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ"**
(اس سے وہ بہت سوں کو گمراہی میں ڈالتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت بخشتا ہے۔ اور اس سے وہی گمراہ ہوتے ہیں جو فاسق ہیں۔)

آج سے عہد کرو:
میں قرآن کی آیات پر غور کروں گا ✋
میں اللہ کی نشانیوں کو دیکھوں گا اور اس کی قدرت کا اعتراف کروں گا 🌟
میں اپنے بچوں کو بھی یہ معجزات بتلاؤں گا تاکہ ان کا ایمان مضبوط ہو 🕊️

یہ پیغام فوراً شیئر کرو!
اپنے دوستوں، فیملی، گروپس میں بھیجو تاکہ لاکھوں لوگ قرآن کے اس اعجاز کو دیکھیں، ایمان تازہ کریں اور اللہ کی طرف لوٹ آئیں

11/11/2025

*موٹرسائیکل ایک لیٹر میں پچاس کلومیٹر چلتی تھی۔*
اچانک اس کی ایوریج خراب ہو گئی اور چالیس پہ آ گئی۔ دو تین مکینکس کو دکھانے کے باوجود معاملہ قابو میں نہ آیا۔
پھر ایک مکینک نے اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک سنیئر موسٹ کی طرف ریفر کر دیا۔
چنانچہ بائیک وہاں لے جائی گئی۔ اس نے ساری بات سنی اور " چھوٹے "کو آواز دی۔
"چھوٹے" سے چھوٹا پیچ کس منگوایا۔
کاربوریٹر سے ایک پیچ کھول کے "چھوٹے" کو کہا کہ اسے بف لگا کے لاو۔
وہ ایک منٹ میں بف لگا کے لے آیا۔ مکینک نے پیچ اسی جگہ پہ لگا دیا اور کہا کہ جاو۔انشاءاللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
پیسے بھی اس نے کچھ نہ لئے۔

چند دن بعد نوٹ کیا توگاڑی پھر پچاس کلومیٹر پہ آگئی تھی۔

میں شکریہ ادا کرنے کے لئے گیا تو پوچھا کیا فالٹ تھا؟
مکینک بولا

" کاربن آ گیا تھا "

صرف کاربن آ جانے سے اتنا اثر پڑا؟

جی ہاں۔۔۔
دلوں پر بھی کاربن آجایا کرتا ہے۔تب دل کسی نیکی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
ایسے کاربن کو دور کرنے کےلئے اسلام نے نسخہ بتا دیاھے۔
دردو شریف، ذکر ، نماز ، تلاوت قرآن مع ترجمہ

منقول

08/11/2025

جن چیزوں سے رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی پناہ مانگی، وہ مندرجہ ذیل ہیں :
‏1. قرض سے۔ (بخاری: 6368)
‏2. برے دوست سے۔ (طبرانی کبیر: 810)
‏3. بے بسی سے۔ (مسلم: 2722)
‏4.جہنم کے عذاب سے۔ (بخاری: 6368)
‏ 5. قبر کے عذاب سے۔ (ترمذی: 3503)
‏6. برے خاتمے سے۔ (بخاری: 6616)
‏7. بزدلی سے۔ (مسلم: 2722)
‏8. کنجوسی سے۔ (مسلم: 2722)
‏9. غم سے۔ ( ترمذی: 3503)
‏10. مالداری کے شر سے۔( مسلم: 2697)
‏11. فقر کے شر سے۔ (مسلم: 2697)
‏12. ذیادہ بڑھاپے سے۔ بخاری: 6368]
‏13. جہنم کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
‏14. قبر کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
‏15. شیطان مردود سے۔ بخاری: 6115]
‏16. محتاجی کی آزمائش سے۔ بخاری: 6368]
‏17. دجال کے فتنے سے۔ بخاری: 6368]
‏18. زندگی اور موت کے فتنے سے۔ بخاری: 6367]
‏19. نعمت کے زائل ہونے سے۔ مسلم: 2739]
‏20. الله کی ناراضگی کے تمام کاموں سے۔ [مسلم: 2739]
‏21. عافیت کے پلٹ جانے سے۔ مسلم: 2739]
‏22. ظلم کرنے اور ظلم ہونے پر۔ نسائی: 5460]
‏23. ذلت سے۔ نسائی: 5460]

ایک عورت جس نے آگ میں جلتی ہوئی لڑکیوں کے لیے دنیا بدل دی  فرانسس پرکنز کی داستانوہ کھڑی دیکھ رہی تھی جب 146 عورتیں جل ک...
02/11/2025

ایک عورت جس نے آگ میں جلتی ہوئی لڑکیوں کے لیے دنیا بدل دی فرانسس پرکنز کی داستان

وہ کھڑی دیکھ رہی تھی جب 146 عورتیں جل کر راکھ بن گئیں کیونکہ فیکٹری کے مالکوں نے باہر کے دروازے بند کر دیے تھے۔
بارہ سال بعد، وہ امریکہ کی سب سے طاقتور عورت بن چکی تھی
بچپن میں فرانسس پرکنز (Frances Perkins) یہ سوچ کر حیران رہتی تھی کہ نیک اور محنتی لوگ غریب کیوں ہیں۔
اس کے والد نے کہا: "غریب اس لیے غریب ہیں کیونکہ وہ کمزور یا سست ہیں۔"
لیکن فرانسس کے دل نے کہا یہ سچ نہیں ہو سکتا۔
کالج میں اس نے فزکس پڑھی ایک محفوظ اور معزز مضمون جو عورتوں کے لیے "مناسب" سمجھا جاتا تھا۔
مگر ایک دن اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
کالج کے پروفیسر نے طلبہ کو دریائے کنیکٹی کٹ کے کنارے واقع فیکٹریوں کا دورہ کروایا۔
فرانسس نے وہاں دیکھا:
تھکی ہوئی لڑکیاں، جن کی عمریں اُس سے بھی کم تھیں، اندھیری اور بند کمروں میں مشینوں کے آگے جھکی ہوئی تھیں۔
نہ ہوا کا گزر، نہ کھڑکیاں، نہ دروازے۔
بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی، ہفتے میں چھ دن۔
مشینوں نے ان کی انگلیاں چھین لی تھیں، کپاس کی دھول نے ان کے پھیپھڑے جلا ڈالے تھے۔
اس نے جان لیا علم کی کوئی قیمت نہیں اگر وہ انسان کو عزت سے جینے میں مدد نہ دے۔
اس نے محفوظ راستہ چھوڑ دیا — امیر شوہر، پیانو کی تعلیم، آرام دہ زندگی۔
اس کے بجائے وہ کولمبیا یونیورسٹی سے معاشیات اور سماجیات میں ماسٹرز کرنے لگی۔
اس کا مقالہ غربت اور بھوک پر تھا — "ہیلس کچن" کے مفلوک الحال بچوں پر۔
خاندان حیران اور شرمندہ ہوا:
"اچھی لڑکیاں غربت کا مطالعہ نہیں کرتیں!"
مگر فرانسس نے کہا: "میں وہ نہیں کروں گی جو اچھی لڑکیاں کرتی ہیں، میں وہ کروں گی جو صحیح ہے۔"
1910 میں وہ نیویارک کنزیومرز لیگ کی ایگزیکٹو سیکریٹری بنی۔
فیکٹریوں کے دورے، تصاویر، رپورٹیں — اس نے حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔
"یہ لوگ نہیں مرتے، ان کو مارا جاتا ہے۔"
وہ قانون سازوں کے سامنے کھڑی ہوتی، سادہ مگر باوقار لباس میں، اور مردوں سے کہتی:
"آپ کی فیکٹریاں عورتوں کو زندہ جلا رہی ہیں۔"
انہوں نے اس سے نفرت کی۔
مگر وہ نہیں رکی۔
پھر آیا 25 مارچ 1911 کا دن۔
وہ واشنگٹن اسکوائر میں دوستوں کے ساتھ چائے پی رہی تھی جب آگ کے الارم بجے۔
وہ دھواں دیکھتی ہوئی دوڑی ٹرائینگل شرٹ ویسٹ فیکٹری کے سامنے۔
دس منزلہ عمارت آگ میں لپٹی تھی۔
کھڑکیوں سے چیخیں آ رہی تھیں۔
دروازے بند تھے۔
لڑکیاں کھڑکیوں سے کود رہی تھیں — کیونکہ مرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
ان کے جسم زمین پر گرتے تھے جیسے بجلی گرج رہی ہو۔
بار بار، بار بار۔
146 عورتیں جل گئیں۔
اکثر تارکین وطن لڑکیاں تھیں۔ کچھ صرف 14 سال کی۔
وہ امیر عورتوں کے لیے "شرٹ ویسٹ" بلاؤز تیار کر رہی تھیں — وہی بلاؤز جو "آزادی اور جدیدیت" کی علامت کہلاتے تھے۔
فرانسس نے جلتی ہوئی لڑکیوں کو دیکھا اور کہا:
"ان کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔"
چند ہفتوں میں، فرانسس کو آگ کی تفتیشی کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔
اس نے رپورٹ نہیں لکھی قانون بدل دیا۔
فیکٹریوں کے لیے نئے اصول بنائے گئے:
تمام دروازے کھلے اور واضح نشانوں کے ساتھ۔
حفاظتی سیڑھیاں اور اسپرنکلر سسٹم۔
ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 54 گھنٹے کی محنت۔
ایک دن کی لازمی چھٹی
فیکٹری مالکان نے شور مچایا: "یہ حکومت کی زیادتی ہے!"
مگر فرانسس نے ان کے سامنے جلتی لڑکیوں کی تصاویر رکھ دیں۔
اس نے کہا:
"اگر منافع انسان سے زیادہ قیمتی ہے، تو ہم انسان نہیں رہے۔"
قانون پاس ہوا۔
نیویارک سے آغاز ہوا، پھر پورے امریکہ نے اپنایا۔
کاروباری طبقہ اس سے نفرت کرنے لگا۔
اخبارات نے لکھا: "یہ عورت شادی کے قابل نہیں، مردوں کے کام میں مداخلت کرتی ہے!"
مگر وہ چپ نہیں ہوئی۔
1933 میں جب فرینکلن ڈی روزویلٹ صدر بنے، انہوں نے فرانسس سے کہا:
"تم میری کابینہ میں شامل ہو جاؤ۔"
یہ تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی عورت کو صدارتی کابینہ میں جگہ دی جا رہی تھی۔
فرانسس نے کہا:
"میں شامل ہوں گی، مگر میری شرائط پر۔"
اور اس نے مطالبات کی فہرست پیش کی:
40 گھنٹے کا ہفتہ
کم از کم اجرت
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ
بے روزگاری الاؤنس
بڑھاپے کی پنش
روزویلٹ نے کہا: "یہ سب ناممکن ہے!"
فرانسس نے کہا: "پھر کسی اور کو ڈھونڈ لو۔"
اور روزویلٹ نے اسے تعینات کر دیا۔
بارہ سال تک وہ وزیرِ محنت رہیں سب سے طویل مدت۔
اسی کے دور میں بنے:

The Social Security Act (1935) بڑھاپے کی پنشن، بے روزگاری الاؤنس۔
The Fair Labor Standards Act (1938) 40 گھنٹے کا ہفتہ، کم از کم اجرت، بچوں کی مزدوری پر پابندی۔
یہ قوانین مکمل نہیں تھے
مگر انہوں نے امریکہ کو بدل دیا۔

فرانسس نے کبھی اپنے آپ کو "کامیاب" نہیں سمجھا۔
وہ کہتی تھی:
"جب تک کوئی عورت بھوک سے مرتی ہے، میں سکون سے نہیں سو سکتی۔"
1945 میں روزویلٹ کے انتقال کے بعد وہ مستعفی ہوئیں۔
اور پھر کارنیل یونیورسٹی میں پڑھانے لگیں۔
1965 میں 85 سال کی عمر میں وفات پائی۔
آج بہت کم لوگ اس کا نام جانتے ہیں —
مگر اگر آپ ہفتے کے آخر میں چھٹی کرتے ہیں،
اگر آپ کو اوور ٹائم کی تنخواہ ملتی ہے،
اگر آپ کے دفتر میں ہنگامی دروازہ لگا ہے،
یا اگر آپ کے بزرگ پینشن پر زندگی گزار رہے ہیں
تو یاد رکھیے،
یہ سب فرانسس پرکنز کی بدولت ہے۔
1911 میں اس نے جلتی ہوئی عورتوں کو دیکھا
اور اگلے پچاس سال تک جلتی دنیا کے لیے انصاف کی عمارت کھڑی کی۔
اس نے ثابت کیا:
غربت کمزوری نہیں، ایک پالیسی کی پیداوار ہے۔
اور پالیسی بدلی جا سکتی ہے۔

محقق و مترجم: حسین

#انسانیت
کیا آپ کو ایسی متاثر کن حقیقی کہانیاں پسند ہیں؟
تو مزید دلچسپ اور سبق آموز تاریخی کہانیاں پڑھنے کے لیے فالو کیجیے۔

Copied

02/11/2025

*🌏وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ*

✒️ضیاء الرحمن اعوان
مؤرخہ: 30 اکتوبر 2025

عورت صنفِ نازک ہے، جمالیاتی ذوق ایسا کہ خود کو بنانے سنوارنے میں مشغول رہتی ہے مگر مطمئن نہیں ہوتی، زیب و زینت اور آراستگی اس کی جبلت میں شامل ہیں۔ نزاکتِ طبع کے سبب جذبات و احساسات سے جلد مغلوب ہو جاتی ہے، غیض و غضب کے اظہار میں عجلت کرتی اور جھگڑتے ہوئے اپنا موقف بھی صحیح بیان نہیں کر پاتی حتی کہ ناسمجھی میں اپنے خلاف ہی بات کر جاتی ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں عورت کی اس جبلت کو کیا خوب انداز میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ اللہ جل مجدہ ارشاد فرماتا ہے: *اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ*
ترجمۂ کنز العرفان: اور کیا وہ جس کی زیور میں پرورش کی جاتی ہے اور وہ بحث میں صاف بات کرنے والی بھی نہیں ہوتی۔
((سورة الزخرف::18))

ان دو احوال کی تفصیل میں مفتی محمد قاسم قادری حفظہ اللہ تحریر فرماتے ہیں ہے:
*1️⃣زیور میں پرورش پانا:* عورت چاہے کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو لیکن اس میں بچپن سے لے کر جوانی بلکہ بڑھاپے تک زیورات سے آراستہ ہونے کی خواہش اور طلب ضرور پائی جاتی ہے اور اس کے بغیر وہ اپنے حسن کے متعلق احساسِ کمتری محسوس کرتی رہتی ہے اور یہ بات نزاکت کی علامت ہے جو ایک اعتبار سے تو خوبی ہے لیکن ایک اعتبار سے نقص بھی ہے۔
*2️⃣بحث کے دوران اپنا موقف صاف بیان نہ کرسکنا:* جس طرح بہت سے مرد ذہین ہوتے ہیں اور بحث کے دوران اپنا موقف انتہائی اچھے انداز میں پیش کر سکتے ہیں جبکہ بعض مردوں میں ذہانت کی کمی اور اپنا موقف اچھے انداز میں پیش کرنے کی خوبی نہیں ہوتی اسی طرح بعض عورتیں بھی انتہائی ذہین ہوتی ہیں اور بحث کے دوران اپنا موقف بڑے اچھے انداز میں بیان کر سکتی ہیں البتہ عورتوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جو اس خوبی سے آراستہ نہیں، بلکہ عموما جذبات سے جلد مغلوب ہو کر یا سختی کے مقامات پر اپنی بات صحیح طریقے سے نہیں کر پاتی لہذا مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو بحث کے دوران اپنا موقف صاف اور واضح طور پر بیان نہ کر پانا بھی عورت کا ایک نقص ہے۔
(تفسیر صراط الجنان)

🧠لیکن اس نازکی اور نقص و کمزوری کے باوجود مردوں پر اس کے تصرف کا حال ملاحظہ کیجیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں سے فرمایا: میں نے تم سے زیادہ کوئی ناقص عقل اور ناقص دین ایسی نہیں دیکھی جو کسی بہت زیادہ ہوشیار مرد کی عقل کو سلب (زائل) کرنے والی ہو...۔ (تبیان القرآن:زخرف:18 بحوالہ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٠۔ ٧٩ وغیرھما)

🔰دین و عقل میں ناقص ہونا یہ عورت کے بعض احوال و ذمہ داریوں کے تعیّن کے اعتبار سے ہے، اس سے ہرگز یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ حقیقتا کوئی عیب ہے یا ایسا نقص جو علم و دانش کے درجات، کمال و فضیلت کے مراتب اور اعلی اخروی مدارج میں مانع ہو ورنہ اسی عورت کو دنیا کی بہترین متاع، مرد کے ایمان کی حفاظت کرنے والی اور دنیا و آخرت کی نعمت اور دین میں مددگار قرار دینے کا معنی کیسے درست ہوگا۔
عورت کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دنیا کی بہترین متاع (دولت) نیک عورت ہے۔ (مسلم)
💠عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: دنیا کا وہ تمام سامان کہ جس سے نفع اٹھایا جائے، اُن میں سب سے بہتر نیک عورت ہے کیونکہ نیک عورت اُمورِ آخرت پر مددگار ہوتی ہے۔
💠حکیم الامّت مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: عورت کو بہترین متاع اس لئے فرمایا گیا کہ نیک بیوی مرد کو نیک بنا دیتی ہے، وہ اُخروی نعمتوں سے ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ’’رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃ‘‘ کی تفسیر میں فرمایا کہ ’’خدایا! ہم کو دنیا میں نیک بیوی دے، آخرت میں اعلیٰ حور عطا فرما اور آگ یعنی خراب بیوی کے عذاب سے بچا۔‘‘ جیسے اچھی بیوی خدا کی رحمت ہے ایسی ہی بری بیوی خدا کا عذاب۔‘‘
((فیضان ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:280 ))

📚یاد رہے کہ قرآن مجید نے تمام عورتوں کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ وہ اپنا موقف وضاحت سے نہیں بیان کر سکتیں، بلکہ یہ حکم اکثر عورتوں کے متعلق ہے۔ بلاشبہ بعض عورتیں بہت ذہین ہوتی ہیں اور بہت فصاحت اور بلاغت سے اپنا موقف بیان کرتی ہیں اور بحث مباحثہ میں غالب رہتی ہیں، احنف نے کہا: میں نے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی (رضوان اللہ علیھم اجمعین) کے خطبات سنے ہیں لیکن اللہ کی قسم! میں نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) سے زیادہ کسی کو بلیغ نہیں پایا اور حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: گفتگو کے جس دروازہ کو حضرت عائشہ نے بند کر دیا ہو اس دروازہ کو ان کے سوا اور کوئی نہیں کھول سکتا اور جب ایک مجلس میں حضرت عائشہ نے حضرت زینب کو لاجواب کر دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٨١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٤٤٢)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد یہ تھی کہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) بہت ذہین ہیں اور ان کی فصاحت و بلاغت بہت قوی ہے۔
((تبیان القرآن:زخرف:18))

🌀عورتوں کی عمومی جبلت اور جذباتیت سے مغلوب حالت کے حوالے سے مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمة اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ عورت جب گفتگو کرتی ہے اور اپنی تائید میں کوئی دلیل پیش کرنا چاہتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف دلیل پیش کر دیتی ہے۔ (خزائن العرفان: زخرف:18)

📚مردوں کو چاہیے کہ زیب و زینب اور ناز و نزاکت میں پرورش پانے والی دنیا و آخرت کی عظیم نعمت، بہترین دولت کی قدر کریں، جذبات سے مغلوب ہو کر نامناسب بات کہہ جائے تو اس کی جبلی حالت کو دیکھتے ہوئے عفو و درگزر سے کام لیں اور عورتوں کو بھی چاہیے کہ وسعتِ مطالعہ، غور و فکر اور تدبر کے ساتھ اپنی عقلی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور جذبات سے مغلوبیت کی حالت میں اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھیں، إن شاءالله اس سے دارین کی بھلائیاں حاصل ہوں گی اور گھر امن کے گہوارے بنیں گے۔

((اس مضمون کی تیاری میں جن علماء و مشائخ اھل سنت کی تصانیف سے مدد لی، اللہ پاک انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔ آمین... بزرگوں کی عبارات من و عن نقل کرنے کی کوشش کی ہے، بعض جگہ مضمون کی ضرورت و ترتیب کے لیے اختصار و معمولی تصرف بھی کیا ہے۔ ضیا))

01/11/2025

اکثر پاکستانیوں کی کچھ مشہور اور قومی عادات۔۔۔🥰🤗

1۔ ڈالر اور سونے کا بڑھتا ریٹ دیکھ اور سوچ کر ایویں ای پریشان ہوتے رہیں گے۔😄

2۔ ہمسایوں کی بجلی بند ہونے پر اندرو اندری نیشنل جئیاں فیلنگاں لیندے رہن گے کہ شکر آ ساڈی کلیاں دی بتی نئیں گئی۔🤗

3۔ ٹی وی ریموٹ کے سیل جلدی تبدیل نہیں کریں گے بلکہ اسے پٹاں تے مار مار کے تے بٹن زور زور نال نپ نپ کے چلانے کی کوشش کریں گے۔۔۔ او بھانویں ہور خراب ہوجے۔😂

4۔ شو کیسوں میں رکھی بہترین کراکری اور پیٹیوں میں رکھے بہترین بستر صرف مہمانوں کے لیے نکالیں گے۔🥰 آپ پرانیاں تے ٹُٹیاں چیجاں ای استعمال کردے ٹر جانڑ گے۔

5۔ اکثر لوگ سڑکوں پر گاڑی ایسے بھگائیں گے جیسے چاند پر پہنچنا ہو، اور دوسرے "ڈلےوروں" کو پنچ ست گالھاں کڈنیاں تو روٹین ورک ہے۔😄

6۔ بچوں کے سوٹ اور جوتے نارمل سائز سے بڑے لیں گے کہ اگلے دو چار سال وی چل جانڑ۔😂

7۔ ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں ایسے "پھنے خاں" بنیں گے جیسے امریکے دے اگلے پریجی ڈینٹ ایہناں ای بننا۔۔۔ گھر وچ بھانویں کوئی چنگی طرحاں روٹی نہ پچھدا ہووے۔🤗

8۔ پرانی ٹی شرٹ کو نائٹ ڈریس بنا لیں گے اور پھر یہ شرٹ یا کوئی جرسی سویٹر بہت پرانے ہو جائیں تو ماسی کام والی سے کہیں گے، ایہہ لے ڈسٹنگ کر لیا کر یا پوچا پھیر لیا کر۔😄

9۔ جب نہانے والا صابن ختم ہونے لگے تو اس چِپر کو نئی گاچی کے ساتھ چپکا لیں گے کہ چلو ہور چار دن کڈجُو گا۔😂

10۔ شادی بیاہ پر "نیوندرا" دینے سے چار دن پہلے پرانی ڈائریاں اور کاپیاں جرور پھرولیں اور کھولیں گے۔۔۔ یہ جانچ پڑتال کرنے کے لیے کہ ایہناں نے ساڈے ویاہ تے کنے پیہے دتے سی؟🥰

11۔ شادی یا ولیمے پر جانے سے ایک دن پہلے کئی لوگ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں کہ کٹے دے گوشت دی چنگی بِمب کڈاں گے۔😂

تسیں وی کوئی ہور "نیشنل ہیبٹاں" دس سکدے او۔۔

31/10/2025

« خاتون کے ہاتھ میں موبائل یا کتاب »

39

مــــͥــͭـــᷫــͧـــᷟـــفتی سـͩــⷷــⷱــᷧـــ᩺ـــید مہـᷨــᷧــͭــͪــᷧــⷨـــتاب عـͫـــᷧــᷝــᷧـ­ـالم

عورت کے ہاتھوں میں کتاب ایک بہترین باشعور اور مہذب نسل کی بنیاد ہوتی ہے
مگر *عورت کے ہاتھ میں موبائل بدترین بے شعور اور غیر مہذب نسل کی ابتداء ہے*
آپ ہزار دلائل سے سامنے والے کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ موبائل آج کے دور کی لازمی شے ہے حتی کہ اپنے دل کو بھی منا سکتے ہیں
مگر حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے!
*کتاب ذہن کھولتی ہے*
*موبائل ذہن بیمار کرتا ہے*
کتاب تجربہ کار مفکر کی خالص فکر پر مشتمل ایک درسگاہ ہوتی ہے
*موبائل بے ڈھنگے جذبات پر مشتمل کچے جوانوں کی جذباتی باتوں سے بھرپور ایک میدانِ جنگ ہے*
`آج کل کے والدین بڑے ہمت و حوصلے والے ہیں یا بے پرواہ اور اولاد کے دشمن کہ لیں` کیونکہ ہمارے دور میں کسی انسان میں ایک گناہ ہوتا مثلاً جھوٹ یا چوری یا سگریٹ نوشی وغیرہ تو ماں باپ بچوں کو اس کے قریب نہیں جانے دیتے تھے
مگر آج موبائل ہر جرم و گناہ سکھاتا ہے والدین یہ بلاء بچوں کو بخوشی دے دیتے ہیں
یہاں چار حرف لکھنے پر ہر جرم بچے کی دسترس میں ہوتا ہے *مگر والدین اس فلسفے کے تحت خاموش رہتے ہیں کہ چلو کچھ دیر ہمیں سکون تو مل رہا ہے!*
اور پھر لڑکیوں کے ہاتھ موبائل تو بندر کے ہاتھ ماچس والی بات ہے کہ پلک جھپکتے ہی جنگل میں آگ بھڑکا دے گا
یہ وہی فتنے ہیں جن کی خبر `صادق و مصدوق حبیب و محبوب صلی اللہ علیہ وسلم` نے بیان فرمائی
> يدخل حَرّها بيت كل مسلم
*اس فتنے کی تپش ہر مسلمان گھر تک پہنچے گی*
❗مسند احمد ❗
*جب فتنے گھر میں داخلے ہونے لگیں تو ان کا سدِ باب گھر سے ہی کیا جائے* یعنی اولاً خواتین کو اس کی تپش سے بچایا جائے کیونکہ `مومنہ خاتون اس مرد کے نصف دین کی محافظہ ہوتی ہے جو مرد دین کا محافظ ہوتا ہے`
اس لحاظ سے خاتون کی عزت و عصمت , عظمت و شرافت , منزلت و کرامت کا فتنے اور اس کی تپش سے پاک صاف رہنا زیادہ ضروری ہے
*وہ مجاہد جو اسلام کی حفاظت کرتا ہے اس کی تیاری کرنے والی مجاہدہ کو بھی اسلامی تعلیم و تربیت و اسلامی تاریخ پڑھا کر گھول کے پلا کر تیار کیا جائے*

فطری اصول ہے اصیل گھوڑی نہ ہو تو اصیل گھوڑا پیدا نہیں ہوتا
نجیب الطرفین بچہ ہی معزز و مکرم ہوتا ہے
آج ذلت و رسوائی کیوں ہے؟
کیونکہ مجاہد تیار کرنے والی مجاہدہ خود تیار نہیں ہے
اس کی عملی مثال موجودہ دور میں یوں سمجھیں کہ *مصر کا صدر اور آل سعود کا ولی عہد دونوں کی پرورش یہودی عورت نے کی ہے*
اور آپ اس وقت فلسطین کے حالات دیکھ رہے ہیں کہ یہ دونوں طاقتور ہونے کے باجود مخنث بنے بیٹھے ہیں
کیوں؟
کیونکہ کبھی بد نسل گھوڑی سے اصیل گھوڑا پیدا نہیں ہوتا
پچھلے سو سال سے دنیا بھر میں دنیاوی تعلیم کو فوقیت دی گئی لڑکیوں کو جو اب دادی نانی وغیرہ ہیں اب تک سب کو دنیاوی تعلیم سے جاہل بنایا گیا اور *جن والدین کا ذہن دینی تھا انہوں نے دنیاوی تعلیم کے مقابلے میں آ کر غلطی یہ کر دی کہ اپنی بچیوں کو اسکول تو نہ بھیجا مگر دینی تعلیم بھی نہیں دی صرف ناظرہ قرآن پڑھا کر دیندار ہونے اور انگریزی تعلیم مخالف ہونے کا ثبوت دیا*
اگر وہی لوگ اپنی لڑکیوں کو دین کی تعلیم دیتے تو آج رنگ اور ہوتا
کیونکہ آپ غور کریں ہماری دادیاں نانیاں اسکول سے تو دور تھیں مگر دینی عالمہ بھی نہیں تھیں
`اتنے بڑے پیمانے پر اگر اس وقت عالمات تیار ہوتیں تو آج رنگ ہی اور ہوتا`
*وہ موقع ہمارے بڑوں نے ہاتھ سے نکال دیا ہے مگر یہ موقع آپ کے ہاتھ میں ہے*
کہ اپنی لڑکیوں کو موبائل سے دور رکھیں کتاب ہاتھ میں دیں

*اگر لڑکیوں کے ہاتھ میں*
*موبائل دیں گے تو* آنے والی نسل ٹک ٹاکر, یوٹیوبر , ولاگر , الغرض سوشل میڈیا کے دلدل میں پھنس کر رہ جائے گی عملی دینی کام سے دور ہو کر بے دین ہونے کا امکان ہے
*اور اگر لڑکیوں کے ہاتھ میں*
*کتاب دیں گے تو* آنے والی نسل علماء و فقہاء و مجاہدین تیار ہوگی!
`آپ کی آنے والی نسل آپ کے فیصلے پر منحصر اور آپ کے فیصلے کی منتظر ہے`
✍️

31/10/2025

*حرام کھانے والے کا ایک عبرت ناک واقعہ*

‏علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا ہاتھ کاندھے سے کٹا ہوا تھا اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ” مجھے دیکھ کر عبرت حاصل کرو‘ اور کسی پر ہرگز ظلم نہ کرو“۔ میں نے آگے بڑھ کر اس سے پوچھا ‘میرے بھائی تیرے ساتھ کیا ہوا؟ اس شخص نے جواب دیا بھائی میرا قصہ عجیب و غریب ہے۔ دراصل میں ظلم کرنے والوں کا ساتھ دیا کرتا تھا۔

ایک دن میں نے ایک مچھیرے کو دیکھا جس نے کافی بڑی مچھلی پکڑ رکھی تھی۔ مچھلی مجھے پسند آئی۔ میں اس کے پاس گیا اور کہا مجھے یہ مچھلی دے دو‘ اس نے جواب دیا میں یہ مچھلی تمہیں نہیں دوں گا کیونکہ اسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے مجھے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنا ہے۔ میں نے اسے مارا پیٹا اور اس سے زبردستی مچھلی چھین لی اور اپنی راہ لی۔ جس وقت میں مچھلی کو اٹھائے جا رہا تھا‘ اچانک مچھلی نے میرے انگوٹھے پر زور سے کاٹ لیا۔ میں مچھلی لے کر گھر آیا اور اسے ایک طرف رکھ دیا۔ اب میرے انگوٹھے میں ٹیس اور درد اٹھا اور اتنی تکلیف ہونے لگی کہ اس کی شدت سے میری نیند اڑ گئی۔ میرا پورا ہاتھ سوجھ گیا۔

جب صبح ہوئی تو میں طبیب کے پاس آیا اور اس سے درد کی شکایت کی۔ طبیب نے کہا یہ انگوٹھا سڑنا شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اس کو کٹوا دو‘ ورنہ پورا ہاتھ سڑ جائے گا۔ میں نے انگوٹھا کٹوا دیا۔ لیکن اس کے بعد ہاتھ سڑنا شروع ہوا اور درد کی شدت سے میں سخت بے چین ہو گیا اور سو نہ سکا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہتھیلی کٹوا دو میں نے ایسا ہی کیا‘ اب درد بڑھ کر کہنی تک پہنچ گیا۔ میرا چین اور نیند سب اڑ گئی اور میں درد کی شدت سے رونے اور فریاد کرنے لگا۔ ایک شخص نے مشورہ دیا کہ کہنی سے ہاتھ الگ کر دو۔ میں نے ایسا ہی کیا لیکن اب درد مونڈھے تک پہنچ گیا اور سرانڈ وہاں تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے کہا کہ اب تو پورا بازو کٹوا دینا ہو گا ورنہ تکلیف پورے بدن میں پھیل جائے گی۔

اب لوگ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آخر یہ تکلیف تمہیں کیوں شروع ہوئی۔ میں نے مچھلی کا قصہ انہیں سنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم ابتداء میں مچھلی والے کے پاس جا کر اس سے معافی مانگتے‘ اسے راضی کر لیتے اور کسی صورت میں مچھلی کو اپنے لئے حلال کر لیتے تو تمہارا ہاتھ یوں کاٹا نہ جاتا۔ اس لئے ابھی جاﺅ اور اس کو ڈھونڈ کر اس سے معافی مانگو ورنہ تکلیف پورے بدن میں پھیل جائے گی۔

میں اٹھا اور مچھلی والے کو پورے شہر میں ڈھونڈنے لگا‘ آخر ایک جگہ اس کو پالیا۔ میں اس کے پیروں پر گر پڑا اور رو رو کر کہا کہنے لگا تمہیں اللہ کا واسطہ مجھے معاف کر دو۔ اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو؟میں نے بتایا میں وہ شخص ہوں جس نے تم سے مچھلی چھین لی تھی۔ پھر میں نے اس سے اپنی کہانی بیان کی اور اسے اپنا ہاتھ دکھایا۔
وہ دیکھ کر رو پڑا اور کہا میرے بھائی میں نے اس مچھلی کو تمہارے لئے حلال کیا‘

کیونکہ تمہارا حشر میں نے دیکھ لیا۔ میں نے اس سے کہا میں تمہیں خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جب میں نے تمہاری مچھلی چھینی تو تم نے مجھے کوئی بد دعا دی تھی؟ اس شخص نے کہا ہاں میں نے اس وقت یہ دعا مانگی کہ اے اللہ! یہ اپنی قوت اور زور کے گھمنڈ میں مجھ پر غالب آیا اور تو نے جو رزق دیا اس نے مجھ سے چھین لیا اور مجھ پر ظلم کیا اس لئے تو اس پر زور کا کرشمہ دکھا۔ میرے مالک اللہ نے اپنا زور تمہیں دکھا دیا۔

اب میں اللہ کے حضور توبہ کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ نہ کسی پر ظلم کروں گا اور نہ ہی کسی ظالم کی مدد کروں گا۔ انشاءاللہ جب تک زندہ رہوں گا اپنے وعدے پر قائم رہوں گا۔

منقول
(علامہ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب الزواجر سے اقتباس )

29/10/2025

جب کوئی آپ سے محبت کرتا ہے ❤️ تو یہ صرف الفاظ یا احساس نہیں رہتا بلکہ سائنس کے مطابق یہ حقیقت آپ کے جسم اور دل کی دھڑکن تک پہنچ جاتی ہے 🫀✨تحقیق بتاتی ہے کہ جب دو لوگ ایک دوسرے سے سچی محبت کرتے ہیں تو ان کے دلوں کی دھڑکن اور سانس لینے کا rhythm ایک دوسرے سے match کرنے لگتا ہے! 💓💫 چاہے وہ دونوں الگ جگہ بیٹھے ہوں، ان کے جسم ایک جیسے ردعمل ظاہر کرتے ہیں — جیسے دل ایک رفتار سے دھڑکنا شروع کر دیتا ہے، یا سانس ایک ہی وقت پر آتا جاتا ہے 🌬️💞 اس phenomenon کو “physiological synchrony” کہا جاتا ہے، اور یہ سائنسی طور پر ثابت ہے کہ محبت کرنے والے جوڑے یا والدین اور بچوں کے درمیان یہ قدرتی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے 🧠💖 Stanford University کی ایک ریسرچ کے مطابق جب دو لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں کچھ دیر تک دیکھتے ہیں تو ان کے دل کی دھڑکنیں آپس میں synchronize ہو جاتی ہیں ❤️‍🔥 ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ محبت کے دوران دماغ “oxytocin” اور “dopamine” جیسے ہارمونز خارج کرتا ہے جو جسم کے اندر سکون، خوشی اور تعلق کا احساس بڑھاتے ہیں 🌈💞 یہی وجہ ہے کہ جب آپ اپنے محبوب کے قریب ہوتے ہیں تو دل خود بخود پرسکون محسوس کرتا ہے، stress کم ہو جاتا ہے، اور جسم میں ایک خاص گرمی سی پھیل جاتی ہے 🌹🫶 ماہرین کے مطابق محبت کے یہ اثرات صرف جذبات نہیں بلکہ measurable ہیں — یعنی مشینوں کے ذریعے ناپے جا سکتے ہیں ❤️🧠 حیرت کی بات یہ ہے کہ جب دو محبت کرنے والے الگ الگ بیٹھے ہوتے ہیں تب بھی اگر وہ ایک دوسرے کے بارے میں سوچیں تو ان کے دل کی دھڑکن میں subtle تبدیلیاں آتی ہیں، جیسے جسم “محسوس” کر رہا ہو کہ وہ شخص آس پاس ہے 💞⚡ اسی لیے بعض اوقات آپ کو کسی کا خیال آتا ہے اور وہ فوراً call کر دیتا ہے — یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ دماغ اور دل کا unseen connection ہوتا ہے 💫💌 سائنسدان کہتے ہیں کہ محبت انسان کا سب سے طاقتور نیورولوجیکل سگنل ہے — جو صرف جذبات نہیں بلکہ پورے جسمانی نظام کو synchronize کر دیتا ہے 🔥💗 اس لیے محبت محض دل کی کیفیت نہیں بلکہ ایک حقیقی جسمانی تجربہ ہے جو دو انسانوں کے دلوں کو ایک ہی rhythm میں دھڑکنے پر مجبور کر دیتا ہے 🫀✨ محبت واقعی “دل سے دل تک” کی زبان ہے جو کسی لفظ کی محتاج نہیں ❤️🌍💫

25/10/2025

« عقل کے ہتھیار سے حسن کا وار سہ لیا جائے »

30

*سیدی حارث المحاسبی* نے فرمایا
`فقدنا ثلاثة أشياء حسن الوجه مع الصِّيانة وحسن القول مع الأمانة وحسن الإخاء مع الوفاء`
ہم نے تین چیزیں گنوا دی ہیں
خوبصورت چہرہ پاکیزگی کے ساتھ
اچھی بات امانت کے ساتھ
اچھی دوستی وفاء داری کے ساتھ

| *سراج الملوك لأبي بكر الطُّرطوشي* |

یعنی *خوبصورت چہرہ پاک صاف ہو آج کے دور میں کم ہی ہے*
*عیون الاخبار* میں ہے
ایک شخص نے کسی دانا سے شادی کا مشورہ کیا تو دانا نے کہا ضرور کرو
مگر
`إيّاك والجمال الفائق فإنه مرعى أنيق`
انتہائی خوبصورتی سے بچو کیونکہ وہ عمدہ چراگاہ ہوتی ہے
وہ شخص کہنے لگا
آپ اسی بات سے روک رہے ہیں جو میں کرنا چاہتا ہوں
{ *یعنی میں خوبصورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور آپ روک رہے ہیں* }
دانا شخص نے کہا
تم نے شاعر کا شعر نہیں سنا
`ولن تصادف مرعى ممرعا أبدا إلا وجدت به آثار منتجع`
تو کسی چراگاہ کی جستجو نہیں کرے مگر وہاں کسی کی طلب کے نشان پائے گا
*یعنی جس بھی خوبصورت چہرے کی طلب کرے گا وہاں پہلے طالب ہوگا* اور اس خوبصورت چہرے پر اس کی طلب کے آثار و نشانات ہوں گے
طالبین کی نگاہیں وہاں پہنچتی ہوں گی اور جب تجھ سے پہلے وہاں پہنچنے والے پہنچ چکے تو تیرے لیئے جگہ خالی ہوگی ؟
`پہلے آئے پہلے پائے کے اصول کے مطابق عین ممکن ہے وہ خوبصورت کسی کے زیرِ اثر ہو پھر ؟`
دوسری بات اچھی بات امانت کے ساتھ نایاب ہے
*لوگ باتیں اچھی کرتے ہیں مگر عمل خائنوں والا کرتے ہیں*
تیسری بات دوستی وفاء کے ساتھ نایاب ہے
*تو ایسا ہی ہے دعویٰ دوستی آسان ہے مگر وفاء یعنی دوستی کے حقوق پورے کرنا بہت کم لوگوں کا کام ہے*
`یہ اکثر عوام کا حال ہے`
سب حسین میلے کردار والے نہیں
سب اچھی بات کرنے والے خائن نہیں
سب دوست بے وفاء نہیں
آٹے میں نمک کی مقدار حسین ایسے ہیں جن پر نگاہِ غیر نہ پڑی ہو آٹے میں نمک کی مقدار دوست وفاء دار ہیں
`حسن و جمال کا اثر مرد کی ذات پر پڑتا ہے` کہ دل بلا اختیار مائل ہو جاتا ہے مگر *مردِ کامل وہی ہے جو حسن کے وار کو عقل کی ڈھال سے برداشت کرے*
عقل والے حسن والوں کو یوں کہتے ہیں
تم میں ضیائے حسن ہے ہم میں ضیائے عقل
تم اپنے گھر کے چاند ہو ہم اپنے گھر کے چاند

*جو مرد حسن و جمال دیکھ کر باؤلا ہو جاتا ہے وہ کم عقل ہے*
اور پھر کسی ایسے شہدے کی شادی خوبصورت عورت سے ہو جائے تو جورو کا غلام بن جاتا ہے
اور پھر `سب مَردوں پر دھبہ بن جاتا ہے`
عقل کا ہتھیار حسن کے وار کو کاٹ دیتا ہے اس ہتھیار کو تیز رکھا کریں
✍️ ゚viralシfypシ゚

Address

Rawalpindi West Ridge

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nayab collections posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share