Guria Gilany

Guria Gilany Crafting Customized clothing 👗 Every stitch is infused with love & care 🪡 Sewing machine enthusiast ✨

17/11/2025

چھوٹی سی خواہش”

آج صبح گھر کے آنگن میں ہلکی سی گہماگہمی تھی۔ آٹھ سال کی بچی کی سالگرہ ہو تو ہوا بھی جیسے مسکرا کے چلتی ہے۔
وہ صبح سے ضد لیے کھڑی تھی کہ آج کے دن وہ اپنی خوشی دوستوں تک بھی لے جانا چاہتی ہے—
“امی، ایک بڑا پیکٹ ٹافیوں کا… بس اتنا سا!”
اس کے لہجے میں ضد کم، امید زیادہ تھی۔

میں نے ٹال دیا۔ دن کے کاموں اور ذمہ داریوں نے سوچ کی راہ بدل دی۔
“دیکھوں گی بیٹا… شاید دن میں دے جاؤں، تم انتظار مت کرنا۔”

وہ اسکول چلی گئی، مگر جاتے ہوئے اس کی گہری آنکھوں میں ایک چمک تھی…
جیسے اپنی چھوٹی سی خوشی کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر لے جا رہی ہو۔

بارہ کے قریب پرنسپل کی کال آئی۔
“میڈم، آپ کی بیٹی انتظار کر رہی ہے… کہ آپ کچھ دینے آئیں گی۔”

میں چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گئی۔
حیرت بھی ہوئی، ہنسی بھی آئی، مگر دل کے کسی کونے میں ہلکی سی چبھن بھی:
یہ کال کروانا ضروری تھا؟
کیا اسے صبر نہیں کرنا چاہیے تھا؟

پھر خیال آیا—
آٹھ سال کی عمر میں کون سا صبر؟ کون سی حساب کتاب؟
یہ تو وہ عمر ہے جہاں خوشیاں مانگ کر نہیں لی جاتیں،
معصومیت سے سوچ لی جاتی ہیں کہ “میری امی تو لائیں گی… کیوں نہیں لائیں گی؟”

میں جلدی سے کیک لے کر اسکول پہنچی۔
دروازے پر ہی وہ بھاگتی ہوئی آئی،
جیسے سارا آسمان اس کی جھولی میں رکھ دیا ہو۔
اس کی خوشی دیکھ کر دل کے سارے بوجھ ریت کی طرح ڈھ گئے۔

مگر واپسی پر میں نے اسے سمجھایا—
نرمی سے، مگر ماں کی سنجیدگی کے ساتھ کہ
“بیٹا، اسکول سے یوں کال نہیں کرواتے… پہلے مما کو بتاتے۔”

وہ چپ ہو گئی۔
اس کی چھوٹی سی گردن ہلکی سی جھک گئی…
اور مجھے لگا شاید میرا لہجہ آج تھوڑا سخت ہو گیا ہے۔

آخر وہ ضدی تو نہیں…
وہ تو بہت ہی پیاری، معصوم، اور اپنے دل کی ایک ایک خواہش صاف لفظوں میں بتانے والی بچی ہے۔
اس نے کال اس لیے نہیں کروائی کہ وہ مان جبراً منوائے—
بلکہ اس لیے کہ اس کی خوشی آج کے دن سے جڑی ہوئی تھی،
اور شاید اس نے دوستوں سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا:
“میری امی کچھ ضرور لائیں گی!”

شام کو جب وہ میری گود میں آ کر بیٹھ گئی تو میرا دل پگھل گیا۔
میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“میری پیاری بیٹی… آج امی بہت مصروف تھیں۔
اگلی بار ہم پہلے سے پلان کر لیں گے۔
تم بہت اچھی بچی ہو… بہت خاص۔”

وہ مسکرائی—
اور یوں لگا جیسے سارا دن اپنی اصل روشنی میں واپس آگیا ہو۔

ماں ہونا شاید یہی ہے—
کبھی سمجھانا، کبھی مان جانا…
اور اکثر، بس بچے کی خوشی کو اپنے دل پر رکھ کر چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔

04/07/2025
السلام علیکم بچیوں اور خواتین کے 14 اگست 🇵🇰 کے ڈریسز کے آرڈرز لیے جا رہے ہیں۔ سائز اور ڈیزائن کو اپنی مرضی کے مطابق CUST...
26/06/2025

السلام علیکم
بچیوں اور خواتین کے 14 اگست 🇵🇰 کے ڈریسز کے آرڈرز لیے جا رہے ہیں۔ سائز اور ڈیزائن کو اپنی مرضی کے مطابق CUSTOMIZEکروایا جا سکتا ہے
آرڈرز 8 اگست کے بعد نہیں لیے جائیں گے، اس لیے اپنا آرڈر جلد از جلد کنفرم کروا لیں۔
14 August Dress Designs👇🏻

*‏بچوں کی بدتمیزی سے تنگ مائیں خزانے کی چابی سنبھال لیں*میں بہت دنوں سے ایک بات محسوس کر رہی تھی کہ میرے دونوں بچے اب بڑ...
24/06/2025

*‏بچوں کی بدتمیزی سے تنگ مائیں خزانے کی چابی سنبھال لیں*

میں بہت دنوں سے ایک بات محسوس کر رہی تھی کہ میرے دونوں بچے اب بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ حاضر جواب اور کچھ بد تمیزی کی طرف جا رہے تھے ، جو کہ کسی طور بھی میرے لیے قابل برداشت بات نہیں تھی ، میں نے دن رات اِن کی طرف خصوصی توجہ دینی شروع کر دی ، گھر سے باہر کے ماحول پر پابندی ، گھر میں دوستوں کی آمد پر پابندی ، ٹی وی میڈیا پر پابندی ، سارا فارغ وقت بچوں کی طرف توجہ اُنکے ساتھ کھیل گود کے ذریعے تعلیم و تربیت کرنا شروع کی ، پھر بھی دل کو تسلی نہیں ہوئی ، ایک دن بہت رو رو کر اللہ پاک سے مدد مانگتی رہی کہ یا اللہ کیا ہو رہا ہے ، میں جیسا چاہتی ہوں ویسے کیوں نہی ہو رہا ایک دن اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک دم سے لگا کہ خزانے کی کُنجی میرے ہاتھ لگ گئی ، میرے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل گئیں ، میرے تقدیر سنور گئی یا اللہ تیرا شکر کہ تو نے میری مدد فرمادی
ہوا کچھ یوں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اپنی امی کو فجر کی نماز کے بعد آٹا گوندھتے دیکھا ، وہ ساتھ ساتھ درود شریف پڑھتی ، ساتھ آٹا گوندھتی ، پھر دو پہر کے لیے سالن بنانا ہوتا تو بھی لہسن پیاز سبزی سب کچھ کرتے اللہ کا ذکر لازمی ہوتا اور امی یہی کہا کرتیں کہ میں یہ سب اس لیے کرتی ہوں کہ کھانے میں برکت رہے ، اسکی بدولت میری اولاد کو اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ، اُسکے منہ میں جانے والا نوالہ بھی ذکر اللہ سے بھر پور ہو اور مجھے فخر ہے کہ میرے سارے بچے اچھائی کی طرف ہیں، کوئی برائی میرے گھر نہیں آتی
میں نے خود بھی ایسا ہی کیا تھا پر چار ماہ سے میں بغیر درود شریف پڑھے کھانے پکانے کی طرف مگن رہی مجھے محسوس ہوتا کہ میرے گھر سے برکت ختم ہو رہی ہے
، میرے بچے بگڑ رہے ہیں ، جب یہ سب یاد آیا تو میں نے دھیان سے یاد سے ذکر اللہ کو کھانا پکانے میں لازمی شامل کرتی ،
مجھے ایک غیبی سکون ملنا شروع ہو گیا میرے گھر میں تھوڑا بھی پکے تو بابرکت ہو جاتا،
بچوں کی طرف سے بھی دل مطمئن ہو گیا ، بیماریاں بھی جاتیں رہیں، پانی بھی پیا تو اللہ پاک کا نام لیکر پیا ، روزانه شکرانے کے نوافل کو روٹین بنالیا مجھے کبھی اپنے گھر سے خوف محسوس نہیں ہوا، کبھی یہ نہیں لگا کہ میرے گھر کہیں کوئی چور نہ آجائے گا، زندگی بہت پر سکون سی ہو گئی ، بس کچھ عرصہ غفلت کا گزرا، بے سکونی کا گزرا ، اللہ پاک نے تھام لیا ۔ ۔
۔ یا اللہ بس تیرا ہی سہارا چاہیے مجھے -
میرے لیے میرا رب ہی کافی ہے اپنی زندگیوں میں کھانے پینے کی تمام اشیاء پر اپنے رب کا نام لے کر کھاؤ ، اپنے رب کا نام لیکر استعمال کرو، زندگی میں بے چینی بے سکونی ختم ہو جائے گی - ان شاء اللہ...

اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کیجئے ہو سکتا ہے تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے۔..
بچیوں اور خواتین کے 14 اگست 🇵🇰 کے ڈریسز کے آرڈرز لیے جا رہے ہیں۔ سائز اور ڈیزائن کو اپنی مرضی کے مطابق CUSTOMIZEکروایا جا سکتا ہے
آرڈرز 8 اگست کے بعد نہیں لیے جائیں گے، اس لیے اپنا آرڈر جلد از جلد کنفرم کروا لیں۔
14 August Dress Designs👇🏻

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگاگھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے ب...
13/06/2025

ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے
وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھے
گھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے
ہماری کردار کشی کی جائے
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں
مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا !!!

ایک آدمی نے سالوں کی محنت سے پیسہ جوڑ جوڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کے لیے ایک خوبصورت نیا گھر تعمیر کیا۔جب گھر مکمل ہوا تو ...
29/05/2025

ایک آدمی نے سالوں کی محنت سے پیسہ جوڑ جوڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کے لیے ایک خوبصورت نیا گھر تعمیر کیا۔
جب گھر مکمل ہوا تو اس نے فیصلہ کیا کہ تین دن بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئے گھر میں شفٹ کرے گا۔
لیکن… شفٹنگ سے ایک دن پہلے رات میں زلزلہ آیا۔
وہ نیا، خوابوں جیسا گھر زمین بوس ہو گیا۔
اگلی صبح جب محلے والے، عزیز و اقارب افسوس کے لیے ملبے پر کھڑے تھے…
تو اچانک گھر کا مالک ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لے کر پہنچا اور سب میں مٹھائی بانٹنے لگا۔
لوگ حیران رہ گئے!
ایک صاحب نے غصے سے پوچھا:
"کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟
اتنا بڑا نقصان ہوا اور تم خوشیاں بانٹ رہے ہو؟"
گھر کے مالک نے مسکرا کر جواب دیا:
"نہیں...
میں تو اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہوں کہ زلزلہ ایک رات پہلے آیا۔
اگر میں اپنے بچوں کے ساتھ اس گھر میں ہوتا،
تو آج مٹھائی نہیں بانٹ رہا ہوتا بلکہ ملبے کے نیچے دفن ہوتا۔" 💔
زندگی میں ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں:
✨ ایک شکایت کا
✨ دوسرا شکر کا
ہم کیا چنتے ہیں…
یہی ہماری سوچ اور ایمان کی پہچان ہے۔ 🤲

ایک وقت تھا جب پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور گھروں میں پولکا آئسکریم کا نام ایک معیار سمجھا جاتا تھا۔ خالص دودھ، سادہ مگ...
06/05/2025

ایک وقت تھا جب پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور گھروں میں پولکا آئسکریم کا نام ایک معیار سمجھا جاتا تھا۔ خالص دودھ، سادہ مگر دل کو بھا جانے والا ذائقہ، اور سب سے بڑھ کر یہ احساس کہ یہ ایک مقامی کمپنی ہے، ہماری اپنی پیداوار، ہمارے ذوق کی نمائندہ۔

پولکا نے 1980 کی دہائی میں بھرپور آغاز کیا اور جلد ہی پورے ملک میں اپنی پہچان بنا لی۔ سستی، معیاری اور خالص آئسکریم ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی تھی۔ کمپنی نے گھر گھر رسائی کے لیے سائیکل سروس جیسا انوکھا قدم اٹھایا، جو اُس وقت اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا۔ پولکا بچوں کی خوشیوں سے جڑی ایک پہچان تھی، اور بڑوں کے لیے ایک بھروسہ۔

پھر رفتہ رفتہ بین الاقوامی برانڈز نے پاکستانی مارکیٹ کا رُخ کیا۔ انہی میں ایک نام Walls کا بھی تھا، جو ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کی ذیلی شاخ ہے۔ خوبصورت پیکجنگ، پرکشش اشتہارات، اور مارکیٹنگ کے ذریعے اس نے تیزی سے مارکیٹ پر قبضہ جمانا شروع کیا۔ اسی دوران پولکا کے شیئرز غیرملکی ہاتھوں میں منتقل ہونے لگے۔ جب اکثریتی کنٹرول ان کے پاس آیا، تو پولکا کی پیداوار کم ہوتی گئی، اور پھر وہ کمپنی جو کبھی پورے ملک میں پہچانی جاتی تھی، خاموشی سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت منظر سے ہٹا دی گئی۔

آج اور بہت سے برانڈز ہر دکان پر موجود ہے، لیکن وہ بات، وہ سادگی، وہ مقامی ذائقہ کہیں کھو گیا ہے۔ نئی نسل کو شاید پولکا کا نام بھی معلوم نہ ہو، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی برانڈ کا ختم ہونا صرف ایک کاروباری فیصلے کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہمارے طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔

ہم جب مقامی برانڈز کو چھوڑ کر بین الاقوامی مصنوعات کو ترجیح دیتے ہیں، تو ہم صرف ایک پروڈکٹ نہیں بدلتے، ہم اپنی معیشت، اپنی صنعت، اور اپنی پہچان کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔

وقت ہے کہ ہم ماضی سے سیکھیں۔ مقامی مصنوعات کی قدر کریں، اپنے کاروبار، اپنے برانڈز اور اپنے لوگوں پر اعتماد کریں، تاکہ کوئی اور پولکا آئندہ خاموشی سے نہ مٹے۔

میں نے تو بچپن میں خوب کھائی ہے یہ، آپ میں سے جس جس نے اس آئس کریم کا لطف اٹھایا ہے کمنٹس میں بتائیے گا ضرور۔۔

ایک حاجی صاحب کافی بیمار تھےکئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھےاب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچکے ت...
03/05/2025

ایک حاجی صاحب کافی بیمار تھے
کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھے
اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچکے تھے۔
ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی۔ سانس لینے میں بہت دشواری کا سامنا تھا۔
نقاہت اتنی کہ بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جاسکتے تھے۔

ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئے
اور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے انہوں نے دور سے ہاتھ ہلا کر چوہدری صاحب کا استقبال کیا'
چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگائے'
پھر مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئے'
ان کی گردن میں صحت مند لوگوں جیسا تناؤ تھا۔

چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟
کوئی دوا' کوئی دعا' کوئی پیتھی' کوئی تھراپی۔ آخر یہ کمال کس نے دکھایا۔
حاجی صاحب نے
فرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسا نسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہوجائے تو سارے ڈاکٹر' حکیم بیروزگار ہوجائیں۔

سارے ہسپتال بند ہوجائیں اور سارے میڈیکل سٹوروں پر تالے پڑجائیں۔
چوہدری صاحب مزید حیران ہوئے کہ آخر ایسا کونسا نسخہ ہے جو ان کے ہاتھ آیا ہے۔
حاجی صاحب نے فرمایا کہ میرے ملازم کی والدہ فوت ہوگئی'
میرے بیٹوں نے عارضی طورپر ایک چھ سات سالہ بچہ میری خدمت کیلئے دیا
'
میں نے ایک دن بچے سے پوچھا کہ آخر کس مجبوری کی بنا پر تمہیں اس عمر میں میری خدمت کرنا پڑی'
بچہ پہلے تو خاموش رہا پھر سسکیاں بھر کر بولا کہ ایک دن میں گھر سے باہر تھا'
میری امی' ابو' بھائی' بہن سب سیلاب میں بہہ گئے
میرے مال مویشی ڈھور ڈنگر' زمین پر رشتہ داروں نے قبضہ کرلیا۔
اب دنیا میں میرا کوئی نہیں۔

اب دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض آپ کی خدمت پر مامور ہوں۔
یہ سنتے ہی حاجی صاحب کا دل پسیج گیا اور پوچھا بیٹا کیا تم پڑھوگے بچے نے ہاں میں سرہلا دیا۔
حاجی صاحب نے منیجر سے کہا کہ اس بچے کو شہر کے سب سے اچھے سکول میں داخل کراؤ۔
بچے کا داخل ہونا تھا کہ اس کی دعاؤں نے اثر کیا'
قدرت مہربان ہوگئی
'
میں نے تین سالوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا'
سارے ڈاکٹر اور گھروالے حیران تھے۔
اگلے روز اس یتیم بچے کو ہاسٹل میں داخلہ
دلوایا اور بغیر سہارے کے ٹائلٹ تک چل کرگیا' میں نے منیجر سے کہا کہ شہر سے پانچ ایسے اور بچے ڈھونڈ کرلاؤ جن کا دنیا میں کوئی نہ ہو۔

پھر ایسے بچے لائے گئے
انہیں بھی اسی سکول میں داخل کرادیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور آج میں بغیر سہارے کے چل رہا ہوں۔
سیر ہوکر کھاپی رہا ہوں اور قہقہے لگارہا ہوں۔ حاجی صاحب سینہ پھلا کر گلاب کی کیاریوں کی طرف چل دئیے

اور فرمایا میں اب نہیں گروں گا جب تک کہ یہ بچے اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہوجاتے۔
حاجی صاحب گلاب کی کیاریوں کے قریب رک
گئے اور ایک عجیب فقرہ زبان پر لائے ..
''قدرت' یتیموں کو سائے دینے والے
درختوں کے سائے لمبے کر دیا کرتی ہے۔

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Guria Gilany posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Guria Gilany:

Share