12/12/2023
چند مفید باتیں
1: دنیا کا ہر پیشہ ہی بیسٹ ہے اگر اپ دی بیسٹ ہیں۔ اگر آپ نے ترقی کرنی ہے تو دوسروں کی Success سٹوریز دیکھنے یا پڑھنے سننے کے بجائے اپنے ماضی اور اپنے حال کا موازنہ کریں. آپ کو ترقی کی وجہ اور راستہ خود بخود معلوم ہو جائے گا۔ خود کو پہچانیں۔ اپنے اندر تلاش کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ قدرت نے آپ کو کس لیے پیدا کیا ہے۔ قدرت نے آپ کے اندر کون سا ہنر رکھا ہے۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے آپ اپنی زندگی اور اپنا مستقبل بہتر بنا سکتے ہیں۔
2: ناامیدی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمارے اندر خود اعتمادی نہیں رہتی۔ سیلف کانفیڈنس نہیں رہتا۔ خود اعتمادی میں کمی درحقیقت خود شناسی میں کمی کا مسئلہ ہے جب آپ ایک بار اپنے بارے میں جان جاتے ہیں تو آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ جو کچھ ہیں وہ کیوں ہیں۔ تب آپ خود کو بہتر سے بہتر کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ مستقل مزاجی سے ایک کام نہیں کر سکتے ،لیکن پریکٹس سے سب کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ہر وہ کام ممکن ہے جس کا ہم فیصلہ کر لیں۔ اچھی سوچ، اچھی امید دلاتی ہے۔ بری سوچ یا منفی سوچ نا امید کر دیتی ہے۔ اپنی سوچ کو مثبت کریں۔ مثبت سوچیں گے تو امید قائم رہے گی۔
3: اپنے اندر شکر گزاری کے احساس کو پیدا کریں۔ جب ہم ہر چھوٹی بات پر شکر ادا کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ تب ہمیں عبادت بوجھ نہیں لگتی بلکہ ہمارا دل اور سر دونوں راضی برضا پروردگار کے سامنے جھک جاتے ہیں۔
4: مسلسل فارغ رہنے سے ہمارا جسم آرام و سکون کا عادی ہو جاتا ہے۔ سستی ہماری سوچ ہمارے ہنر اور ہمارے دماغ کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔ پریشان ہونے سے مسائل حل نہیں ہوتے والد صاحب کی اب تک کی زندگی پر روزانہ نظر دوڑا کر دیکھیں کہ کس قدر مشقت اور محنت سے انہوں نے آپ کو پالا اور جوان کیا آج آپ اس قابل ہیں کہ آپ انہیں بٹھا کر کھلا سکتے ہیں۔ مگر صرف اپنی منفی سوچ کے باعث آپ ایسا نہیں کر پا رہے۔
5: ناکامی کا خوف ایک الارم کی طرح ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جس میدان میں ہم اپنی صلاحیت کو آزما رہے ہیں ہمیں وہاں مزید محنت کی ضرورت ہے۔ یہ الارم اس بات کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے کہ آپ نے تیاری مکمل کی ہے تو اپنی تیاری کا اس میدان میں کامیابی کے ساتھ موازنہ کرنے میں آپ کوئی غلطی کر رہے ہیں۔ اس لیے ناکامی کے اس خوف کو خوش آمدید کہیں اور دوبارہ سے اپنے کام میں لگ جائیں۔ دماغ کو ہم جتنا استعمال کرتے ہیں اس کی قوت اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہم دماغ کو استعمال کرنا بند کر دیں تو ہماری سوچ کو زنگ لگ جاتا ہے۔