27/09/2024
بندہ کسے کہتے ہیں ؟
بندہ وہ کہلا سکتا ہے جو کسی بھی چیز کا مالک خود کو نہ سمجھے ۔ چاہے وہ چیز اس کے استعمال یا قبضہ میں ہی کیوں نہ ہو ۔
جب حقِ ملکیت جتا دی تو بندگی سے دور ہو گئے ۔
کشف المحجوب میں ایک بزرگ کا واقعہ پڑھا تھا کہ انہیں کوئی آ کر بتاتا ہے کہ ان کا سامانِ تجارت جو بحری جہازوں میں آ رہا تھا سمندر میں ڈوب گیا ۔
وہ کچھ دیر خاموش رہتے ہیں پھر کہتے ہیں شکر الحمداللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
تھوڑی دیر بعد وہی شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ جو پہلی اطلاع تھی وہ غلط تھی اب معلوم ہوا ہے کہ آپ کا سامان اعلیٰ نرخوں پہ فروخت ہوا ہے اور توقعہ سے زیادہ فائدہ ہوا ہے ۔
وہ پھر کچھ دیر توقف فرماتے ہیں اور پھر کہتے ہیں شکر الحمداللہ
تو جو ان کے ساتھ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں ان میں سے ایک پوچھتا ہے یا حضرت دونوں حالتوں میں شکر الحمداللہ کچھ سمجھ نہیں آیا ۔
تو وہ بزرگ فرماتے ہیں جب مجھے پہلی بار کہا گیا کہ آپ کو نقصان ہوا تو میں نے اپنے دل کی حالت دیکھی وہیں کوئی ملال نا پایا تو اللہ کا شکر ادا کیا ۔
جب کچھ دیر بعد کہا گہا کہ آپ کو تو بہت فائدہ ہوا ہے تو پھر میں نے اپنے دل کی حالت دیکھی وہاں کوئی خوشی نہیں پائی تو پھر اللہ کا شکر ادا کیا ۔
تو مجھے یہی سمجھ آیا کہ بندہ وہی ہے جو دنیا کی چیز کو اپنی ملک نہ سمجھے بلکہ جو چیز اس کے پاس ہو اسے خدا کی امانت سمجھے ۔
اب یہ امانت دینے والے پہ ہے کہ جب چاہے اپنی امانت واپس لے ۔
اللہ تو ہر چیز کا مالک ہے ہر چیز اس کی دی ہوئی ہے جب چاہے اپنی چیز واپس لے لے غلام کو حق نہیں کہ کسی دی ہوئی چیز پر اپنا حق جتائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بالکل اس طرح جیسے آپ نے ایک ڈرائیور رکھا ہوا ہے گاڑی چلانے کے لیے کل کو وہ ڈرائیور خود کو گاڑی کا مالک سمجھ لے تو آپ سب اسی غاصب کہیں گے اسی طرح اللہ کی دی ہوئی چیز کا مالک اگر ہم خود کو سمجھ بیٹھے تو ہم بھی غاصب کہلائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ سے ٹکراؤ کی پوزیشن میں آ جائے گا اب آپ خود سمجھ لیں کہ اس کے بعد آپ کا کیا حشر ہوگا
واللہ تعالیٰ اعلم