05/05/2026
حالیہ کھدائی اور تحقیق کے بعد آثارِ قدیمہ کی تلاش کے دوران مدینہ منورہ میں مسجد جمعہ کے شمال میں صحابی رسول حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کے مقام کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ وہی جگہ ہے جہاں حالیہ سروے اور باڑ بندی (تصویری کارروائیوں) کے دوران سیرتِ نبوی سے متعلق ایک تاریخی مقام سامنے آیا ہے۔ یہ جگہ مسجد جمعہ اور مسجد قباء کے قریب واقع ہے۔
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو بنی سالم بن عوف خزرجی سے تعلق رکھتے تھے، مسجد جمعہ کے مغرب میں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ ان کے گھر میں تشریف لا کر نماز ادا فرمائیں، کیونکہ بارش اور سیلاب کے دنوں میں راستہ کٹ جاتا تھا اور وہ اپنی کمزوریٔ بصارت (نابینا ہونے) کی وجہ سے مسجدِ نبوی تک نہیں جا سکتے تھے۔
یہ مقام دراصل ان کے گھر کی وہ جگہ ہے جسے بعد میں “مسجد عتبان” کے نام سے موسوم کیا گیا، اگرچہ حقیقت میں یہ مسجد نہیں بلکہ وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے نماز ادا فرمائی تھی۔
حضرت عتبان رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت بھی کرتے تھے اور نابینا ہونے کے باوجود دین کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ! بارش اور اندھیروں میں مجھے مسجد تک پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے، میں ایک نابینا شخص ہوں، اس لیے آپ میرے گھر میں کوئی جگہ متعین فرما دیں تاکہ میں اسے نماز کی جگہ بنا سکوں۔”
نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: “تم کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟” انہوں نے گھر کے ایک مقام کی طرف اشارہ کیا، تو آپ ﷺ نے وہاں نماز ادا فرمائی۔
اس واقعے کو غور و فکر کے ساتھ دیکھا جائے تو اس میں محبتِ رسول ﷺ، صحابہ کرام کی عقیدت، اور دینِ اسلام کی آسانی اور رحمت کے بے شمار پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔