04/04/2026
جب وہ کسی چیز کی خواہش کرتیں تو آپ ﷺ اس میں ان کا ساتھ دیتے!
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ بہت نرم مزاج انسان تھے،
جب حضرت عائشہ ؓ کسی چیز کی خواہش کرتیں تو آپ ﷺ اس میں ان کا ساتھ دیتے،
چنانچہ حج ختم ہونے کے بعد انہوں نے عمرہ کرنے کی خواہش کی،
تو آپ ﷺ نے انہیں (ان کے بھائی) عبد الرحمن بن ابی بکر کے ساتھ بھیجا اور انہوں نے مقامِ تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا!
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے اس بیان کی نزاکت اور مٹھاس تو دیکھیے:
"جب حضرت عائشہ ؓ کسی چیز کی خواہش کرتیں تو آپ ﷺ اس میں ان کا ساتھ دیتے!"
شریف اور عالی ظرف شوہر وہ ہے جو جائز خواہشات کو پورا کرے، نہ کہ انہیں روکے،
پس اگر آپ دیکھیں کہ ان کا دل اپنے گھر والوں سے ملنے کو چاہ رہا ہے تو انہیں لے جائیں،
اور اگر آپ محسوس کریں کہ ان کا جی گھر سے باہر نکلنے کو چاہ رہا ہے تو ان کے ساتھ جائیں،
اور اگر وہ کسی لباس کی خواہش کریں اور آپ قدرت رکھتے ہوں تو انہیں اس سے محروم نہ کریں،
اور اگر کسی دن وہ اپنی سہیلیوں کو بلانا چاہیں تو انہیں اجازت دیں اور ان کا دل تنگ نہ کریں،
محروم کر دینا تو ہر کوئی کر سکتا ہے، لیکن صرف عالی ظرف لوگ ہی ہمیشہ نوازتے ہیں،
سختی کرنا کوئی بہادری کا کام نہیں، نرمی وہ صفت ہے جس کے لیے ہمت اور شجاعت درکار ہوتی ہے!
______________________
إِذَا هَوِيَتِ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ!
يَقُولُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلاً سَهْلاً،
إِذَا هَوِيَتْ عَائِشَةُ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ،
فَأَحَبَّتْ أَنْ تَعْتَمِرَ بَعْدَ أَنْ انْتَهَى الْحَجُّ،
فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ!
يَا لَرِقَّةِ تَعْبِيرِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعُذُوبَتِهِ:
إِذَا هَوِيَتْ عَائِشَةُ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ!
الزَّوْجُ النَّبِيلُ هُوَ الَّذِي يُحَقِّقُ الرَّغَبَاتِ لَا الَّذِي يَمْنَعُهَا،
فَإِنْ رَأَيْتَ عِنْدَهَا رَغْبَةً فِي زِيَارَةِ أَهْلِهَا فَخُذْهَا،
وَإِنْ لَمَسْتَ عِنْدَهَا هَوىً فِي الْخُرُوجِ مِنَ الْبَيْتِ فَاصْحَبْهَا،
وَإِنْ رَغِبَتْ بِفُسْتَانٍ وَكُنْتَ قَادِراً فَلَا تَحْرِمْهَا،
وَإِنْ أَحَبَّتْ يَوْماً أَنْ تَدْعُوَ صَدِيقَاتِهَا فَاسْمَحْ لَهَا وَلَا تَخْنُقْهَا،
الْحِرْمَانُ يَقْدِرُ عَلَيْهِ كُلُّ أَحَدٍ وَلَكِنَّ النُّبَلَاءَ وَحْدَهُمْ يَمْنَحُونَ عَلَى الدَّوَامِ،
وَالْقَسْوَةُ لَيْسَتْ عَمَلاً بُطُولِيّاً، اللَّيْنُ هُوَ الَّذِي يَحْتَاجُ إِلَى شَجَاعَةٍ!
رسائل من النبي ﷺ
ادھم شرقاوی
#الــــــــهـــــــــامـــــــــ